***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > جنایات کے مسائل

Share |
سرخی : f 272    حاجی کے لئے یکم ذی الحجہ کوناخن نکالنے کا حکم
مقام : سعودیہ عربیہ,
نام : سیدمخدوم محی الدیں
سوال:    

اگر حاجی یکم ذوالحجہ کو ناخن نکالا ہوتو کوئی کفارہ لازم ہوگا؟اس کی تفصیل بتلائیں ۔


............................................................................
جواب:    

احرام باندھنے کے بعد محرم پر جو امور حرام ہوجاتے ہیں ان میں ناخن تراشنا ہے ۔ آدمی اگر حالت احرام میں ہاتھ پیر کے تمام ناخن ایک ہی مجلس میں تراش لے یا کسی ایک ہاتھ یا ایک پیر کے پانچ ناخن ایک ہی مجلس میں تراشے تو اس پر ایک دم واجب ہے، اور اگر ایک ہاتھ یا پیر کے پانچ ناخن ایک ہی مجلس میں اور دوسرے ہاتھ یا پیر کے دوسری مجلس میں کاٹے تو دو دم واجب ہیں اور دونوں ہاتھ اور دونوں پیروں کے جملہ ناخن چار مجلسوں میں کاٹے تو چار دم لازم ہیں - اگر پانچ سے کم ناخن تراشے توہر ناخن پر آدھا صاع یعنی تقریبا ً سوا کلو گیہوں یا اسکی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے- اور اگر چاروں ہاتھ پیر کے چار چار ناخن کترے تو سولہ صدقے واجب ہیں البتہ ان صدقوں کی قیمت ایک دم کے مساوی ہوجائے تو کچھ کم کرکے دیں - عالمگیری ،ج1، ص244، میں ہے : وَلَيْسَ لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَقُصَّ أَظْفَارَهُ فَإِذَا قَصَّ أَظَافِيرَ يَدٍ وَاحِدَةٍ أَوْ رِجْلٍ وَاحِدَةٍ عَنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ وَكَذَلِكَ إذَا قَلَّمَ أَظَافِيرَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ يَكْفِيهِ دَمٌ وَاحِدٌ . وَلَوْ قَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَظَافِيرَ مِنْ يَدٍ وَاحِدَةٍ أَوْ رِجْلٍ وَاحِدَةٍ تَجِبُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ وَلِكُلِّ ظُفْرٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ إلَّا أَنْ يَبْلُغَ ذَلِكَ دَمًا فَيَنْقُصُ مَا شَاءَ وَلَوْ قَلَّمَ خَمْسَةَ أَظَافِيرَ مِنْ يَدٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يُكَفِّرْ ثُمَّ قَلَّمَ أَظَافِيرَ يَدِهِ الْأُخْرَى إنْ كَانَ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ ، وَإِنْ كَانَ فِي مَجْلِسَيْنِ فَيَلْزَمُهُ دَمَانِ .۔۔۔۔۔۔ وَلَوْ قَلَّمَ خَمْسَةَ أَظَافِيرَ مِنْ الْأَعْضَاءِ الْأَرْبَعَةِ الْمُتَفَرِّقَةِ تَجِبُ الصَّدَقَةُ لِكُلِّ ظُفْرٍ نِصْفُ صَاعٍ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ - رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى - . وَكَذَلِكَ لَوْ قَلَّمَ مِنْ كُلِّ عُضْوٍ مِنْ الْأَعْضَاءِ الْأَرْبَعَةِ أَرْبَعَةَ أَظَافِيرَ تَجِبُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ ، وَإِنْ كَانَ جُمْلَتُهَا سِتَّةَ عَشَرَ فِي كُلِّ ظُفْرٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ إلَّا إذَا بَلَغَتْ قِيمَةُ الطَّعَامِ دَمًا فَيَنْقُصُ مِنْهُ مَا شَاءَ كَذَا فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ – اگرکوئی حاجی صاحب احرام کی حالت میں ہوں ،خواہ حج قران کا احرم ہو یا عمرہ کا ،انہیں چاہئے کہ احرام کھولنے تک تمام پابندیوں کی رعایت کریں ،اس دوران یکم ذی الحجہ ہوتو احرام کی حالت میں ہونے کی وجہ سے ناخن تراشنے کی ممانعت رہے گی ۔اگرکوئی حاجی صاحب حج تمتع کررہے ہوں اور وہ عمرہ سے فارغ ہوکراحرام نکال چکے ہوں تو ان کے لئے ناخن تراشنے کی وجہ سے نہ کوئی کفارہ ہے اور نہ کراہت ہے البتہ قربانی واجب ہونے کی وجہ سے جوحضرات قربانی کرتے ہیں اسلئے یکم ذی الحجہ سے قربانی کرنے تک ناخن اوربال نہ نکالنا ازرؤے حدیث شریف بہترہے البتہ حج کااحرام کھولنے کے بعد ناخن تراشنے اور بال نکال نے کا اہتمام کیا جائے ۔چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :ثم الیقضوا تفثم ۔ترجمہ :پھراپنا میل کچیل دورکریں ۔(سورة الحج ،29)اس آیت کریمہ کی تفسیرمیں مفسرین کرام نے ناخن تراشنا،مونچھ کترنااوربال نکالنا ذکرکیا ہے ۔(تفسیرقرطبی وغیرہ ۔سورة الحج ۔29) واللہ اعلم بالصواب- سید ضیاء الدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ –

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com