***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان > قربانی کے جانور

Share |
سرخی : f 274    جانور خرید نے کے بعد کوئی عیب آجائے تو کیا کرنا چاہئیے ؟
مقام : گلبرگہ کرناٹگ، انڈیا,
نام : عبدالمجید،
سوال:     گذشتہ سال میںنے قربانی کیلئے ایک بڑا جانور خرید اتھا ،خرید کر گھر لانے کے دوران جانو رگڑھے میں گرگیا جس کی وجہ سے اسکا اگلا پیر ٹوٹ گیا اور میں نے دوسرا جانو رخرید کر قربانی دیدی او رپہلے جانو رکو ایسے ہی ذبح کردیا ،الحمد للہ میں مالدار ہونے کی وجہ سے دوسرا جانور خرید لیا تھا ،اگر یہی واقعہ ایسے لوگوں کے ساتھ پیش آئے جن کے پاس ایک جانور خرید نے کے بعد مالی استطاعت باقی نہیں رہتی تو انہیں کیا کرنا چائیے ؟ ازراہ عنایت شریعت کی روشنی میں اس سوال کا جواب مرحمت فرمائیں ؟
............................................................................
جواب:     اگر کوئی شخص قربانی کے لئے جانور خرید ا،بعدازاں اس جانو رمیں کوئی ایسا عیب ونقص پیدا ہوگیا جس کے ہوتے ہوئے قربانی جائز نہیں ہوتی، تواس سلسلہ میں شریعت اسلامیہ نے دو صورتیں بیان کی ہے (1)قربانی دینے والے دولتمنداور صاحب استطاعت ہونیکی بناء واجب قربانی دے رہے ہوں توانکو چاہئیے کہ وہ اس عیب د ار جانور کی قربانی نہ کریں بلکہ قربانی کے لئے دوسرا صحیح وسالم جانو رخرید یں ۔(2) اس کے برخلاف اگر وہ صاحب استطاعت و مالدار نہیں ہیں صرف نفل قربانی کی نیت سے جانور خریدے ہوں تو چونکہ وہ جانور خرید نے کی وجہ سے قربانی کیلئے متعین ہوچکاہوتاہے انکے لئے حکم شریعت یہ ہیکہ وہ اسی جانو رکی قربانی کریں جس کو انہوں نے قربانی کی نیت سے خرید اتھا‘اگر چہ کہ خرید نے کے بعد اس میں کوئی عیب پیدا ہوگیا ہو ۔ جیساکہ درمختار ج 5ص 229 میں ہے  (ولواشتراہا سلیمۃ ثم تعیبت بعیب مانع )کمامر(فعلیہ اقامۃ غیرہا مقامہا ان )کان(غنیاوان )کان (فقیراأجزأہ ذلک)۔ اور ردالمحتار ج5کتاب الاضحیۃ ص229 میں ہے  لانہا انماتعینت بالشراء فی حقہ حتی لواوجب اضحیۃ علی نفسہ بغیرعینہا فاشتری صحیحۃ ثم تعیبت عندہ فضحی بہا لا یسقط عنہ الواجب لوجوب الکاملۃ علیہ کالموسرزیلعی۔  
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com