***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > قراءت کے مسائل

Share |
سرخی : f 299    مقتدی امام کوفرض نمازمیں لقمہ کب دے سکتاہے؟
مقام : کریم نگر اے پی انڈیا,
نام : عابد علی
سوال:    

مقتدی اپنے امام کو فر ض نماز میں لقمہ دے سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر مقتدی لقمہ دے اور امام نہ لے تو اس صورت میں مقتدی یا امام کی نماز فاسد ہوگی یا نہیں؟


............................................................................
جواب:    

مقتدی اپنے امام کو فرض ونفل ہرقسم کی جہری نماز میں لقمہ دے سکتا ہے ، مقتدی اپنے امام کولقمہ دینے کی وجہ سے مقتدی اور امام کسی کی بھی نماز فاسد نہیں ہوتی ، مگرمقتدی کو چاہئیے کہ لقمہ دینے میں جلدی نہ کرے ، ممکن ہے کہ امام کو اسی وقت بھولا ہوا لفظ یاد آجائے تب مقتدی امام کے پیچھے بے ضرورت قراء ت کرنے والاقرارپائیگا،لہذا امام کو لقمہ دینے میں عجلت کرنا اورفوراً تلاوت کرنا مکروہ ہے ، فتاوی عالمگیری ج1،کتاب الصلوۃ الباب السابع فی مایفسد الصلوۃومایکرہ فیہاص 99 میں ہے ’’ وان فتح علی امامہ لم تفسدثم قیل ینوی الفاتح بالفتح علی امامہ التلاوۃ والصحیح ان ینوی الفتح علی امامہ دون القراء ۃ قالوا ہذا اذا ارتج علیہ قبل ان یقرء قدر مایجوز بہ الصلاۃ او بعدماقرأ ولم یتحول الی اٰیۃ اخری واما اذا قرأاوتحول ففتح علیہ تفسد صلاۃ الفاتح والصحیح انہا لا تفسد صلاۃ الفاتح بکل حال و لاصلوۃ الامام لواخذمنہ علی الصحیح ہکذا فی الکافی‘‘ ۔ ’’ ویکرہ للمقتدی ان یفتح علی امامہ من ساعتہ لجوازان یتذکر من ساعتہ فیصیر قارئا خلف الامام من غیر حاجۃ کذا فی محیط السرخسی‘۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com