***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > رضاعت کے مسائل

Share |
سرخی : f 303    بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کا حكم ؟
مقام : حیدرآباد ،انڈیا,
نام : ایک اسلامی بہن
سوال:     مجھے دولڑکے ہیں ،بڑے لڑکے کوشیر خوار گی کے زمانہ میں ایک خاتون نے دودھ پلایا تھا ، اس خاتون کی ایک لڑکی ہے ،ویسے تواس خاتون سے ایک عرصہ سے جان پہچان اور ملاقات ہے لیکن چند دن پہلے یہ بات سامنے آئی کہ میرے دوسرے لڑکے کے ساتھ اس خاتون کی لڑکی کی نسبت ہوجائے ،سب چیز یں مناسب معلوم ہورہی ہیں ،کیا شرعی اعتبار سے اس رشتہ کی اجازت ہے؟ یابھائی کی دودھ بہن ہونے کی وجہ سے رشتہ حرام ہوگا ؟ جواب کا بے چینی سے انتظار ہے مہربانی فرماکرجواب ضرور عنایت  فرمائیں ۔
............................................................................
جواب:     ایام رضاعت میں دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ،البتہ چندرشتے اس سے مستثنی ہیں جن سے عقد نکاح کرنا شرعاجائزہے منجملہ ان رشتوں کے حقیقی بھا ئی کی رضاعی بہن ہے۔ جیسا کہ درمختار برحاشیہ ردالمحتارج 2،کتاب النکاح باب الرضاع صفحہ 442 میں ہے
  (وتحل اخت اخیہ رضاعا) یصح اتصالہ بالم۔ضاف کان یکون لہ اخ نسبی لہ اخت رضاعیۃ۔
لہذا آپ کے بڑے لڑکے نے ایام رضاعت میں جس خاتون کا دودھ پیا تھا اس خاتون کی لڑکی کے ساتھ آپ کے دوسرے لڑکے کا نکاح شرعاجائزہے۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com