***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز کی سنتیں اور مستحبات

Share |
سرخی : f 315    مسواک کونسی لکڑی کی  ہو؟
مقام : سید علی چبوترہ،انڈیا,
نام : جمیل احمد
سوال:     مسواک کن چیزوں کی کرنی چاہئے اور کن چیزوں کی نہیں ؟ بیان فرمائیں ۔
............................................................................
جواب:     ہر درخت کی مسواک صحیح و درست ہے ۔ اور مستحب یہ ہیکہ مسواک کسی نرم درخت کی ہو جس کاذائقہ کڑوا ہو ‘ تمام مسواک سے افضل پیلو کی مسواک پھر زیتون کی مسواک ہے ‘ البتہ انار اور بانس کی مسواک نقصان دہ اور ضرر رساں ہے اس لئے اس کا استعمال درست نہیں ۔
مراقی الفلاح مصری ص 40 پر ہے
’’ و ینبغی ان یکون لیناً فی غلظ الاصبع طول شبر مستویاً قلیل العقدمن الاراک ‘‘
مسواک نرم درخت کی ‘ انگلی کے برابر موٹی‘ بالشت برابر لمبی ‘ سیدھی ‘ کم سے کم گرہ دار‘ پیلو کی ہونا چاہئے۔  
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے
’’والمستحب بلہ ان کان یابساً و غسلہ بعد الاستیاک لئلا یستاک بہ الشیطان و ان من شجر مر اقطع للبلغم و انقی للصدر و اھنأ للطعام و افضلہ الاراک ثم الزیتون و یصح بکل عود الا الرمان و القصب لمضرتھما ‘‘
مستحب یہ ہیکہ خشک ہو تو ترکر لی جائے اور مسواک کرنے کے بعد اس کو دھویا جائے تاکہ شیطان اسے مسواک نہ بنالے اور مسواک کڑوے درخت کا ہو ‘یہ بلغم کاٹتا ہے ‘ سینہ کو صاف کرتا ہے اور کھانا ہضم کرنے میں مددگار ہوتا ہے ۔افضل پیلو کی مسواک ہے پھر زیتون کی اور کسی بھی درخت کی مسواک جائز ہے ۔ سوائے انار اور بانس کے کیونکہ یہ طبی اعتبار سے مضر ہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب–
سیدضیاءالدین عفی عنہ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com