***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 341    حلت و اباحت کا معیار
مقام : پاکستان,
نام : سید محمد عزیر جاوید عطاری قادری رضوی ضیائی اشرفی
سوال:    

السلام علیکم حضور! ارشاد فرمائیے‘ حلت‘ اباحت کا معیار کیا ہے؟ اگر اباحت کسی کھانا کی چیز ثابت کرتی ہو تو یہ کس تحت ہے؟ اور کوئی کام مباح ثابت کرنا ہو تو یہ کس تحت ہے؟ یعنی ان کی تقسیم کس نام سے کی جائے تاکہ اس حوالے سے سوال پوچھنے میں آسانی رہے۔ جزاک اللہ۔


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ! حلت و حرمت کا معیار قرآن کریم و حدیث شریف ہے‘ ان کی روشنی میں فقہاء کرام نے ایک اصولی قاعدہ بیان کیا ہے: الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘ چیزوں میں اصل اباحت اور جواز ہے‘ کسی چیز کے جائز کو مباح ہونے کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں‘ البتہ کسی چیز کے ناجائز و حرام یا مکروہ ہونے کے لئے دلیل چاہئے۔ قرآن کریم و حدیث شریف میں جن اعمال و افعال کی ممانعت ہے‘ وہ ممنوع ہیں‘ اور جن مشروبات و غذاؤں کی حرمت وارد ہے ‘ وہ حرام ہیں۔ نوپیدا طریقہ ہائے کار‘ مشروبات و اغذیہ‘ مصنوعات وغیرہ کو قرآن و حدیث شریف میں بتلائے گئے اصول کی کسوٹی پر‘ پرکھا جائے گا‘ اصول شریعت کی روشنی میں اگر وہ حرام یا مکروہ قرار پائیں تو حرمت یا کراہت کا حکم لگایا جائے گا اور اگر جائز و مباح معلوم ہوں تو اس کے متعلق جواز و اباحت کا حکم دیا جائے گا۔ فقہاء اسلام نے کتاب و سنت کا عطر فقہ کی شکل میں جمع کیا ہے‘ فی زمانہ پیش آمدہ جدید مسائل کو ان فقہاء کی تصریحات کی روشنی میں دیکھا جائے گا‘ یہ ذمہ داری اُن بے لوث‘ کہنہ مشق علماء کی ہے جو مزاج شریعت سے آشنا, فقہ کے اصول و فروع سے واقف ہوں اور احکام کلیات و جزئیات پر گہری نظر رکھتے ہوں۔ و فقھم اللہ الصواب وھو العزیز الوھاب۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com