***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > شرکت کا بیان

Share |
سرخی : f 346    بزنس پارٹنرکی پارٹنرشپ سے علٰحدگی
مقام : نیوزی لینڈ,
نام : اسماعیل خان
سوال:     میں نیوزی لینڈکارہنے والاہوں ،میں نے اپنے ایک بزنس پارٹنرکے ساتھ کمپیوٹرکے پارٹس کا کاروبارشروع کیا تھا،جس میں ہم دونوں نے 50-50 فیصدسرمایہ لگایااورہم نے طے کیا تھادونوں کی محنت رہے گی، جتنافائدہ ہوگادونوں 50-50فیصدلیں گے ،ہم نے موجودہ سرمایہ سے سامان خریدا،انہیں دنوں میرے دوست نے مجھے اچانک جو اب دے دیا کہ میں نیوزی لینڈسے شفٹ ہورہاہوں لہذاتمہارے ساتھ کام نہیں کرسکتا،میں اپنی رقم واپس لیناچاہتاہوں ۔ایسی صورت میں مجھے کیا کرناچاہئے ؟ موجودہ سرمایہ سے فائدہ ہوگا۔کیامیرادوست اس میں حصہ داررہے گا،اس بارے میں اسلام کا قانون جانناچاہتاہوں ،آپ کے جواب کا انتظارکروں گا۔
............................................................................
جواب:     آپ نے اپنے کے دوست کے ساتھ مشترکہ سرمایہ سے کمپیوٹرکے پارٹس کا جوکاروبارشروع کیا ہے وہ ازروئے شریعت جائز ہے ،پچاس فیصدسرمایہ لگانے کے بعدجب آپ کے دوست شرکت کے اس کاروبارسے علٰحدہ ہوچکے ہیں ،محنت وعمل میں آپ کے حصہ دارباقی نہیں تواب تجارت میں حاصل ہونے والانفع آپ کا حق ہے اورنقصان کے ذمہ دارآپ ہی ہیں، آپ کے دوست نے جس دن پارٹنرشپ سے علٰحدگی اختیارکی آپ انہیں اس دن کی قیمت کے اعتبارسے آدھے سامان کی قیمت اداکردیں، چونکہ یہاں سے آپ کی تجارت مستقل ہے اس میں ان کی شرکت باقی نہیں لہذااس تجارت میں نفع ہویانقصان ،وہ حصہ دارنہیں۔
چنانچہ البحرالرائق، کتاب الشرکۃمیں ہے:
  وظاہر المذہب الفرق بین الشرکۃ والمضاربۃ یصح فسخہا لو عروضا لا المضاربۃ ، واختارہ الصدر وصورتہ اشترکا واشتریا أمتعۃ ، ثم قال أحدہما لا أعمل معک بالشرکۃ وغاب فباع الحاضر الأمتعۃ فالحاصل للبائع وعلیہ قیمۃ المتاع ؛ لأن قولہ لا أعمل معک فسخ للشرکۃ معہ وأحدہما یملک فسخہا وإن کان المال عروضا بخلاف المضاربۃ وہو المختار۔  
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
04-01-2010
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com