***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 35    اوندھے سونا دوزخیوں کا طریقہ ہے
مقام : پاکستان,
نام : سید محمد عزیر جاوید قادری
سوال:    

السلام علیکم حضور! میرے پاس ایک SMS آیا تھا جس میں یہ لکھا تھا: ’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک الٹے سونے والے پر ہوا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر مبارک مارکر فرمایا ’’اٹھو یہ جہنمیوں کا لیٹنا ہے‘‘ (حدیث) ‘‘ حضور کیا کوئی ایسی حدیث ہے؟ کیا اس میسیج کو ارسال کرنا صحیح ہے؟ جزاک اللہ خیراً کثیراً ‘ فی امان اللہ‘ السلام علیکم۔


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام ور حمۃ اللہ وبرکاتہ! اسی طرح کی حدیث پاک سنن ابن ماجہ شریف میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور مسند امام احمد ‘ امام طبرانی کی معجم کبیر اور ابن ابو عاصم کی الاحاد و المثانی میں حضرت ابو طفخۃ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے‘ مسند امام احمد کی روایت ملاحظہ ہو: عن ابن طفخۃ الغفاری قال اخبرنی ابی انہ ضاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مع نفرقال فبتنا عندہ فخرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل یطلع فراہ منبحا علی وجھہ فرکضہ برجلہ فایقظہ فقال ھذہ ضجعۃ اھل النار۔ ترجمہ: سیدنا ابو طفخۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کی ضیافت کی‘ ایک صحابی کہتے ہیں ہم نے ان کے پاس رات گذاری‘ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ایک حصہ میں جائزہ کے لئے تشریف لائے تو انہیں اوندھے منہ لیٹے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے قدم مبارک سے مارکر جگایا اور فرمایا یہ دوزخیوں کے سونے کا طریقہ ہے۔ (مسند امام احمد‘ حدیث نمبر 22509) آپ نے سوال میں جو حدیث پاک ذکر کی ہے ‘ ثابت ہے‘ اس کو SMS وغیرہ کے ذریعہ ارسال کرنا جائز و بہتر ہے اور یہ اشاعت علم دین کا ایک طریقہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com