***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > متفرق مسائل

Share |
سرخی : f 358    SMS کے ذریعہ بیعت کرنے کا حکم
مقام : انڈیا,
نام : مدثر
سوال:    

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایس ایم ایس (SMS) کے ذریعہ مرید بن سکتے ہیں‘ مرشد کو بغیر دیکھے اور جو ہم سے بہت دور ہیں‘ اور کیا کسی کی زبردستی سے بن سکتے ہیں؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ! مرید بننا درحقیقت ایک عہد و پیمان کرنا ہے جس میں مرید اپنی بخشش کے لئے مرشد کو بارگاہِ الٰہی میں واسطہ بناکر سابقہ گناہوں سنتوں کی خلاف ورزی سے توبہ کرتا ہے اور آئندہ زمانے میں ان امور سے پرہیز و اجتناب کا عہد کرتا ہے‘ زمانۂ قدیم سے یہ عمل مصافحہ کے ساتھ کیا جاتا ہے‘ اسی لئے فقہاء کرام نے بیعت کے لئے مصافحہ کو سنت قرار دیا ہے‘ جیسا کہ امام فخر الدین زیلعی حنفی رحمۃ اللہ علیہ مصافحہ سے متعلق فرماتے ہیں: ولا بأس بالمصافحۃ لماروینا ولانھا سنۃ قدیمۃ متوارث فی البیعۃ و غیر ذلک۔ (تبےین الحقائق‘ باب الخلع) احادیث شریفہ کی روشنی میں مصافحہ کرنا صحیح ہے اور بیعت وغیرہ کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے جو زمانہ قدیم سے جاری ہے‘ تاہم اگر شیخ کامل‘ متبع شریعت ہو‘ بظاہر بالمشافہ مصافحہ کے ذریعہ بیعت کرنے کی سہولت میسر نہ ہو تو SMS کے ذریعہ بھی بیعت کی جاسکتی ہے اور تعلیمات و اذکار لئے جاسکتے ہیں۔ بیعت کرنے سے پہلے جن سے بیعت کی جارہی ہے ان کے بارے میں مکمل اطمینان کرلینا چاہئے‘ قلبی لگاؤ ، دلی یکسوئی جمع خاطر ہو توبیعت کی جائے‘ کسی کی زبردستی سے بیعت کرنا درست نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com