***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 378    سانچق کی رسم انجام دینا کیسا ہے؟
مقام : انڈیا۔ حال مقیم امریکہ,
نام : سلام
سوال:    

السلام علیکم ! آج کل گھروں میں جو سانچق وغیرہ ہوتی ہے وہ اپنے لئے صحیح ہے یا نہیں ؟


............................................................................
جواب:    

شادی یا دیگر خوشی ومسرت کے موقع پرحدود ِشریعت میں رہتے ہوئے تقریب منعقد کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن بے پردگی کے ساتھ غیر محرم کے سامنے بے محابہ گھومنا پھرنا ، سالی یا کسی غیرمحرم سے انگلی پکڑوانا، یہ سب امور ناجائز وحرام ہیں ۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے : مَنْ نَظَرَ إلَی مَحَاسِنِ امْرَأَۃٍ أَجْنَبِیَّۃٍ عَنْ شَہْوَۃٍ صُبَّ فِی عَیْنَیْہِ الْآنُکُ یَوْمَ الْقِیَامَۃ- ترجمہ:جوکوئی شہوت کے ساتھ کسی اجنبی عورت کے مقامات ِزینت کودیکھتا ہے تو قیامت کے دن اس کی آنکھوں میں سیسہ پگلا کر ڈالا جائیگا۔ (ہدایہ ،کتاب الکراہیۃ ،ج4،ص458) غیرمحرم کو چھونا اور مس کرنا سخت ممنوع ہے ، اس بارے میں احادیث شریفہ میں وعیدیں آئی ہیں چنانچہ ہدایہ ،کتاب الکراہیۃ ،ج4،ص459، میں ہے : مَنْ مَسَّ کَفَّ امْرَأَۃٍ لَیْسَ مِنْہَا بِسَبِیلٍ وُضِعَ عَلَی کَفِّہِ جَمْرَۃٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃ ۔ ترجمہ : جوشخص کسی غیر محرم عورت کے ہاتھ کوچھوئے تو بروزقیامت اسکے ہاتھ پرچنگارہ رکھا جائیگا۔ (ہدایہ ،کتاب الکراہیۃ ،ج4،ص459) لھذا سانچق وغیرہ کے موقع پر جو غیر شرعی رسومات انجام دی جاتی ہیں وہ سب قابل ترک ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سید ضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com