***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > رضاعت کے مسائل

Share |
سرخی : f 380    بچوں کوکس عمر تک  دودھ پلایا جاسکتا ہے ؟
مقام : ٹولی چوکی ۔ انڈیا,
نام : ندیم
سوال:     کیا بچوں کو دو سال کے بعد دودھ پلانا حرام ہے ؟ فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
............................................................................
جواب:     اللہ تعالی نے حیات انسانی کی بقاء کے لئے غذا کو ذریعہ بنایا اور ہر ایک کے لئے اس کے مناسب رزق مقدر فرمایا :چنانچہ شیر خوربچوں کی غذا ان کی مناسبت سے دودھ مقرر کی گئی ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے :   وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلَادَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْن  
ترجمہ : اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال  (سورۃ البقرۃ - 233)
راجح اور مفتی بہ قول کے مطابق مدت رضاعت دو سال ہے ، اور دو سال کے بعد چونکہ بچہ کو دودھ کی حاجت باقی نہیں رہتی اسی لئے اس مدت رضاعت کے ختم ہونے کے بعد دودھ پلانا ازروئے شرع درست نہیں جیساکہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب تبیین الحقائق میں ہے : ثم قیل :
  لا یباح الارضاع بعد مدۃ الرضاع   (تبیین الحقائق ، کتاب الرضاع ، ج 2 ، ص 634)
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن


All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com