***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > والدین کے حقوق

Share |
سرخی : f 384    والدین سے قطع تعلق گناہ کبیرہ ہے
مقام : پھولانگ نظام آباد,
نام : سید حفیظ الرحمن
سوال:    

ایک لڑکا تقریباً ایک سال سے اپنے والدین سے دوری اختیار کئے ہوئے ہے ان کے حقوق ادا نہیں کرتا یہاں تک کہ ان کی حالت بھی دریافت نہیں کرتا والدین سے حسن سلوک کیلئے اس کی رہنمائی فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالی نے والدین کو عظیم و بلند رتبہ عطا فرمایا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنے حق کو بیان کرنے کے ساتھ ہی ان کے حقوق بیان فرمائے ہیں ۔ اور ان کی نافرمانی کوگناہ کبیرہ قرار دیا ۔ صحیح بخاری ج 2 ص 884 میں حدیث شریف ہے۔(حدیث نمبر:2511) ’’عن ابی بکرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم الا أنبئکم باکبر الکبائر قلنا بلی يا رسول الله ! قال الاشراک بالله و عقوق الوالدين ‘‘ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کیا میں تم کو سب سے بڑا گناہ نہ بتلاؤ ںہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے ۔ والدین کی نافرمانی نہایت عظیم گنا ہ ہے اس کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے ۔ جیساکہ مشکوۃ المصابیح ص 421 میں ہے ’’عن ابی بکرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم کل الذنوب يغفر الله منها ما شاء الا عقوق الوالدين فانه يعجل لصاحبه فی الحيوۃ قبل الممات ‘‘ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام گناہوں میں سے اللہ تعالی جو چاہتا ہے بخش دیتا ہے سوائے والدین کی نافرمانی کے اللہ تعالی اس شخص کو موت سے پہلے زندگی میں ہی سزا دیتا ہے اسلام میں کسی بھی مسلمان سے تین دن سے زائد ترک تعلق کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ والدین کے ساتھ ایک سال تک ترک تعلق کریں اور ان سے دوری اختیار کریں یہ انتہائی بدبختی ہے اور بدترین گناہ ہے ۔ بخاری شریف ج 2 ص 897 میں ہے ’’ عن ابی ايوب الانصاری قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لا يحل للرجل ان يهجر اخاه فوق ثلاث يلتقيان فيعرض هذا و يعرض هذا و خيرهما الذي يبدأ بالسلام ‘‘ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے ( مسلمان ) بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے جبکہ وہ دونوں باہم ملتے ہیں یہ اس سے وہ اس سے منہ پھیر لے ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۔ والدین کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھنا برکت و سعادت کا موجب اور حج مقبول کے ثواب کے حصول کا باعث ہے ۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے : نہیں ہے کوئی (ماں باپ ) کا فرمانبردار لڑکا جو اپنے والدین کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے مگر اللہ تعالی اس کیلئے ہر نظر کے بدلہ ایک حج مقبول کا ثواب لکھا دیتا ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا اگر وہ ہر دن سو بار دیکھے فرمایا ہاں اللہ بہت بڑا اور پاک ہے ۔ و عنه ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال ما من ولد بار ينظر الی والديه نظرة رحمة الا کتب الله له بکل نظرة حجة مبروة قالوا و ان نظر کل يوم مائة مرة قال نعم الله اکبر و اطيب ‘‘ ﴿مشکوۃ ص 421﴾ والدین کے اولاد پر اس قدر احسانات ہوتے ہیں اگر اولاد اپنا سب کچھ صرف کر دے تب بھی وہ ان عظیم احسانات و عنایات کا بدلہ نہیں ہوسکتا ۔لہذا سعادت مند اولاد کا فریضہ یہ ہے کہ وہ والدین کی خدمت اور ان سے حسن سلوک کو اپنا شعار بنالے اور جو کوتاہی والدین سے حسن سلوک کرنے میں ہوئی اس کے لئے بارگاہ یزدی میں بصد عجز و نیاز گڑ گڑا کر توبہ کرے اور اپنے والدین سے معافی مانگے کیونکہ سب سے پہلے والدین ‘ نیک برتاؤ اور حسن سلوک کے حقدار ہیں ۔ مشکوۃ المصابیح ص 418 میں حدیث شریف ہے ۔ ’’ عن ابی هريرة قال قال رجل يا رسو ل الله من احق بصحابتی قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال ابوک ‘‘ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حقدار کون ہے تو فرمایا تمہاری ماں ‘ عرض کیا پھرکون ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ عرض کیا پھر کون ؟، فرمایا تمہارے والد ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن 13-01-2010 اللہ تعالی نے والدین کو عظیم و بلند رتبہ عطا فرمایا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنے حق کو بیان کرنے کے ساتھ ہی ان کے حقوق بیان فرمائے ہیں ۔ اور ان کی نافرمانی کوگناہ کبیرہ قرار دیا ۔ صحیح بخاری ج 2 ص 884 میں حدیث شریف ہے۔ ’’عن ابی بکرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم الاأنبئکم باکبر الکبائر قلنا بلی يا رسول الله ! قال الاشراک بالله و عقوق الوالدين ‘‘ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کیا میں تم کو سب سے بڑا گناہ نہ بتلاؤ ںہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے ۔ والدین کی نافرمانی نہایت عظیم گنا ہ ہے اس کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے ۔ جیساکہ مشکوۃ المصابیح ص 421 میں ہے ’’عن ابی بکرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم کل الذنوب يغفر الله منها ما شاء الا عقوق الوالدين فانه يعجل لصاحبه فی الحيوۃ قبل الممات ‘‘ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام گناہوں میں سے اللہ تعالی جو چاہتا ہے بخش دیتا ہے سوائے والدین کی نافرمانی کے اللہ تعالی اس شخص کو موت سے پہلے زندگی میں ہی سزا دیتا ہے اسلام میں کسی بھی مسلمان سے تین دن سے زائد ترک تعلق کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ والدین کے ساتھ ایک سال تک ترک تعلق کریں اور ان سے دوری اختیار کریں یہ انتہائی بدبختی ہے اور بدترین گناہ ہے ۔ بخاری شریف ج 2 ص 897 میں ہے ’’ عن ابی ايوب الانصاری قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لا يحل للرجل ان يهجر اخاه فوق ثلاث يلتقيان فيعرض هذا و يعرض هذا و خيرهما الذي يبدأ بالسلام ‘‘ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے ( مسلمان ) بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے جبکہ وہ دونوں باہم ملتے ہیں یہ اس سے وہ اس سے منہ پھیر لے ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۔ والدین کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھنا برکت و سعادت کا موجب اور حج مقبول کے ثواب کے حصول کا باعث ہے ۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے : نہیں ہے کوئی (ماں باپ ) کا فرمانبردار لڑکا جو اپنے والدین کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے مگر اللہ تعالی اس کیلئے ہر نظر کے بدلہ ایک حج مقبول کا ثواب لکھا دیتا ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا اگر وہ ہر دن سو بار دیکھے فرمایا ہاں اللہ بہت بڑا اور پاک ہے ۔ و عنه ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال ما من ولد بار ينظر الی والديه نظرة رحمة الا کتب الله له بکل نظرة حجة مبروة قالوا و ان نظر کل يوم مائة مرة قال نعم الله اکبر و اطيب ‘‘ ﴿مشکوۃ ص 421﴾ والدین کے اولاد پر اس قدر احسانات ہوتے ہیں اگر اولاد اپنا سب کچھ صرف کر دے تب بھی وہ ان عظیم احسانات و عنایات کا بدلہ نہیں ہوسکتا ۔لہذا سعادت مند اولاد کا فریضہ یہ ہے کہ وہ والدین کی خدمت اور ان سے حسن سلوک کو اپنا شعار بنالے اور جو کوتاہی والدین سے حسن سلوک کرنے میں ہوئی اس کے لئے بارگاہ یزدی میں بصد عجز و نیاز گڑ گڑا کر توبہ کرے اور اپنے والدین سے معافی مانگے کیونکہ سب سے پہلے والدین ‘ نیک برتاؤ اور حسن سلوک کے حقدار ہیں ۔ مشکوۃ المصابیح ص 418 میں حدیث شریف ہے ۔ ’’ عن ابی هريرة قال قال رجل يا رسو ل الله من احق بصحابتی قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال ابوک ‘‘ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حقدار کون ہے تو فرمایا تمہاری ماں ‘ عرض کیا پھرکون ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ عرض کیا پھر کون ؟، فرمایا تمہارے والد ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com