***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز کسوف (سورج گہن ) کے

Share |
سرخی : f 388    سورج گہن کی نمازکا حکم
مقام : حیدرآباد,انڈیا,
نام : عبد الحکیم
سوال:     اخبارات اور ٹی وی کے ذریعہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ 15 جنوری کو سورج گہن ہے‘ میں اپنے محلہ کی مسجد کی کمیٹی کا رکن ہوں‘ ہماری مسجد کی کمیٹی نے یہ طئے کیا کہ ہم اس دن سورج گہن کی نماز کا اہتمام کریں ۔ مفتی صاحب قبلہ! براہ کرم سورج گہن اور اس کی نماز سے متعلق وضاحت فرمائیں ‘ کیا سورج گہن کی نماز جماعت سے ادا کی جاسکتی ہے؟
............................................................................
جواب:     ’’سورج گہن‘‘ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں ایک نشانی ہے‘ زمانۂ جاہلیت میں لوگوں کا یہ نظریہ تھا کہ ’’سورج گہن اور چاند گہن‘‘ کسی بڑی شخصیت کے انتقال کی وجہ سے ہوتے ہیں‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس بے بنیاد نظریہ کی تردید فرمائی ، مجمع الزوائد باب الکسوف (حدیث نمبر3263) میں حدیث پاک مذکور ہے :
عن محمود بن لبيد قال کسفت الشمس يوم مات ابرهيم بن رسول الله صلی عليه وسلم فقالوا کسفت الشمس لموت ابراهيم بن رسول الله صلی الله عليه وسلم فقال رسو ل الله صلی الله عليه وسلم ان الشمس والقمر اٰيتان من اٰيات الله عزوجل الا وانهما لا يکسفان لموت احد ولا لحياته فاذا رايتموهما کذلک فافزعوا الی المساجد ثم قام فقرا بعض الذاريات ثم رکع ثم اعتدل ثم سجد سجدتين ثم قام ففعل کما فعل فی الاولی۔ رواه احمد ورجاله ورجال الصحيح۔

ترجمہ:حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا جس دن حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہزادہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا سورج گہن لگ گیا تو لوگوں نے کہا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہزادہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے وصال کی وجہ سے سورج گہن ہوا تو حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا سورج اور چاند اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں ،سنو!حقیقت یہ ہے کہ انہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سےگہن نہیں لگتا ، جب تم ان دونوں کو اس طرح گہن میں بے نور دیکھوتو مسجدوں کی طرف متوجہ ہوجاؤ ‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نمازکے لئے کھڑے ہوئے اور آپ نے سورۂ ذاریات کا کچھ حصہ تلاوت فرمایا پھر رکوع فرمایاپھر آپ رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے پھر دوسجدے کئے پھر قیام فرمایا اور پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت ادافرمائی۔
نماز کسوف بالاتفاق سنت ہے اور جماعت سے ادا کرنا سنت کفایہ ہے‘ نماز کسوف کی دو رکعتیں ہیں‘ جو بلا اذان و اقامت‘ غیر مکروہ وقت میں باجماعت ادا کی جاتی ہیں‘ اس نماز میں طویل قرأت کرنا افضل ہے، پہلی رکعت میں ’’سورۃ البقرۃ‘‘ کی بقدر اور دوسری رکعت میں ’’سورۃ اٰل عمران‘‘ کی بقدر تلاوت کی جائے۔
نماز کسوف‘ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اور ایک قول میں امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جہری قرأت سے ادا کی جائے گی۔ نماز کے بعد اس وقت تک امام اور مقتدی اجتماعی دعا میں مصروف رہیں جب تک کہ گہن ختم نہ ہوجائے۔
جیسا کہ رد المحتار ، باب الکسوف ، ج 1، ص 622 میں ہے :
(قوله ولا جهر ) وقال ابو يوسف يجهر و عن محمد روايتان جوهرة۔ فتاویٰ عالمگيری ميں نماز کسوف کے بیان میں ہے وهی سنة هکذا فی الذخيرة واجمعوا انها تؤدی بجماعة ۔ ۔ ۔ وَالْأَفْضَلُ أَنْ يُطَوِّلَ الْقِرَاءَةَ فِيهِمَا ۔ ۔ ۔  ۔

(فتاوی عالمگیری،کتاب الصلاۃ،الباب الثامن عشر فی صلاۃ الکسوف) اور البحر الرائق میں ہے:   وأما قدر القراء ة فيها فروی  أنه عليه السلام قام فی الرکعة الأولی بقدر سورة البقرة ، وفی الثانية بقدر سورة آل عمران ۔۔۔۔۔( قوله ثم يدعو حتی تنجلی الشمس ) اي يدعو الإمام والناس معه حتی تنجلی الشمس-  (البحر الرائق ،کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الکسوف)  
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
14-01-2010
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com