***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > رضاعت کے مسائل

Share |
سرخی : f 400    رضاعی بھانجی سے نکاح کی حرمت
مقام : گولکنڈہ ، انڈیا,
نام : محمد مخدوم محی الدین صابر
سوال:     کیا حقیقی داماد کے نومولود لڑکے کو یعنی نانی اپنے نواسے کو دودھ پلاسکتی ہے؟ جب کہ وہ اپنی حقیقی بیٹی کو یعنی نومولود لڑکے کی ماں کو بھی دودھ پلاچکی ہے، تو کیا نومولود لڑکا اور نومولود لڑکے کی ماں کا آپس میں دودھ شریک بھائی، دودھ شریک بہن کا رشتہ تو نہیں ہوگیا؟ اسی طرح نومولود لڑکے کے ماموں، خالہ بھی دودھ بھائی ، دودھ بہن تو نہیں ہوگئے؟ حالاں کہ نومولود کی جان کو کوئی خطرہ نہ تھا، ایسا بھی نہیں تھا کہ زچہ کو دودھ نہیں آرہا ہو بلکہ نانی نے نواسے کے پیار محبت میں دودھ پلادیا۔ بالفرض جان بچانے کی خاطر یہ عمل ہوا ہوتا تو کیا دودھ کے رشتہ میں کوئی فرق نہیں آتا؟ بہرحال نومولود کے ننہیال سے رشتہ داری کیسی رہے گی ؟ یعنی نومولود لڑکے کی خالہ یا ماموں کی بیٹی سے رشتہ طے ہوسکتا ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ’’ایک لڑکا جو اپنی نانی کا دودھ پیا کیا وہ اپنی خالہ کی لڑکی سے شادی کرسکتا ہے؟
حوالوں اور تشریح کے ساتھ سمجھائیں تاکہ مسلم معاشرے میں سدھار آسکے۔

............................................................................
جواب:     نسب کی وجہ سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں چند استثنائی رشتوں کے سوا وہ رشتے رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوتے ہیں‘ بچہ نے جس عورت کا دودھ پیا ‘ اس کے والدین اصول اورفروع بچہ پر حرام ہوتے ہیں یعنی دودھ پلانے والی خاتون کے دادا دادی‘ نانا نانی‘ بیٹا بیٹی‘ پوتا پوتی‘ نواسہ نواسی‘ بچہ پر حرام ہوتے ہیں ، اسی طرح دودھ پلانے والی کی بیٹیاں یعنی نومولود کی ماں اور خالہ اب اس کی رضاعی بہنیں ہوئیں اور بیٹے یعنی اس بچہ کے ماموں اب رضاعی بھائی ہوئے، آپ کے سوال کے مطابق نومولود کی حقیقی نانی نے اس کو دودھ پلایا تو ان کے بیٹے اور بیٹی کی اولاد اس نومولود پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے‘ کیونکہ یہ نومولود اُن کی پوتی کے حق میں رضاعی چچا او رنواسی کے حق میں رضاعی ماموں ہے‘ لہٰذا دودھ پلانے والی نانی کی پوتی یا نواسی سے اس دودھ پئے ہوئے شخص کا نکاح ازروئے شریعت حرام ہے۔
جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج کتاب الرضاع ص 343 میں ہے
یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھما و فروعھما من النسب والرضاع جمیعاً ۔
بلاضرورت نانی کو نہیں چاہئے کہ وہ اپنے نواسہ یانواسی کو دودھ پلائے اگر پلاچکی ہیں تو لازم ہے کہ دیگر رشتہ داروں کے سامنے اس کو واضح کردیں تا کہ آئندہ رشتۂ نکاح کے وقت بے قاعدگی ہونے نہ پائے بصورت دیگر اگر حرمت والا رشتہ کرلیاجائے تو پوری زندگی حرام کاری میں گزرے گی۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com