***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > وضو کے مسائل

Share |
سرخی : f 424    اعضاء وضوء پر زخم ہوں تو کیا کرنا چاہئیے؟
مقام : دمام,
نام : نعمان فہد
سوال:     ایک صاحب کو اکسیڈنٹ میں دونوں پیروں پر زخم آگئے ہیں، ڈاکٹر صاحب نے زخم پر پانی ڈالنے اور پٹی کھولنے سے منع کیا ہے، کیا ایسے وقت نماز کے لئے انہیں وضو کرنے کے بجائے تیمم کرنے کی اجازت ہے؟
............................................................................
جواب:     اگر کوئی شخص زخمی ہو تو وہ وضو کرے یا تیمم کرے، اس سلسلہ میں اس کے اعضاء وضو کو دیکھا جائے، اگر اس کے اکثر اعضاء وضو زخمی ہوں تو وہ تیمم کرلے اور اگر اکثر اعضاء وضو درست وسالم ہوں تو درست اعضاء کو دھولے اور زخموں پر مسح کرے، اگر زخموں پر پٹی بندھی ہوئی ہو اور پٹی کھول کر باندھی نہیں جاسکتی یا اس میں دشواری ہو تو پٹی پر ہی مسح کرلے۔
سوال میں مذکور صاحب کے جب دونوں پیر زخمی ہیں اور ڈاکٹر صاحب نے پٹی کھولنے سے منع کیا ہے تو انہیں چاہئے کہ وضو کے لئے چہرہ اور دونوں ہاتھ دھولیں اور پیروں کی پٹی پر ہی مسح کرلیں۔
جیساکہ فتاوی عالمگیری ج1،کتاب الطھارۃ،الفصل الاول فی امور لابد منھا فی التیمم،ص28میں ہے : وإن کان بہ جدری أو جراحات یعتبر الأکثر محدثا کان أو جنبا ففی الجنابۃ یعتبر أکثر البدن وفی الحدث یعتبر أکثر أعضاء الوضوء فإن کان الأکثر صحیحا والأقل جریحا یغسل الصحیح ویمسح علی الجریح إن أمکنہ وإن لم یمکنہ المسح یمسح علی الجبائر أو فوق الخرقۃ ولا یجمع بین الغسل والتیمم .
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com