***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 457    کیا قاضی اور گواہوں کے بغیر نکاح منعقد ہوگا؟
مقام : انڈیا,
نام : شریف
سوال:    

السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ بغیر قاضی صاحب اور بغیر خطبہ نکاح کے کیا نکاح ہوسکتا ہے؟ اگر ہوسکتا ہے تو برائے مہربانی بتائیں اور گواہ نہیں ہوں تو کیا نکاح ہوجاتا یا اگر لڑکا اور لڑکی دونوں ہی شادی کے لئے راضی ہیں اور کوئی بھی راضی نہیں تو اس صورت میں نکاح کے لئےکیا کرنا چاہئے کیونکہ ہم لوگ سب کے سامنے ظاہر ہونا نہیں چاہ رہے ہیں-


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! دو مرد ( مسلمان، عاقل، بالغ) یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں بالغ لڑکا اور لڑکی کا ایجاب و قبول کرنا شرعاً نکاح ہے- ان امور کے بغیرنکاح ہی نہیں ہوتا، البتہ خطبہ نکاح مسنون ہے- مستقبل میں خطرات سے بچنے کے لئے قاضی صاحب کے پاس اندراج کرانا ضروری ہے- بالغ لڑکا لڑکی اگرچہ ولایت سے خارج ہیں، اس کے باوجود غیر کفو میں شادی کریں تو والد کو یا قریبی ولی کو نکاح فسخ کرانے کا اختیار ہے، اس لئے والدین کےعلم میں رکھتے ہوئے ان کی رضامندی سے شادی کرنا باعث خیروبرکت ہے- فتاوی عالمگیری میں ہے ( ومنھا ) الشھادۃ قال عامۃ العلماء : إنھا شرط جواز النکاح ھکذا فی البدائع وشرط فی الشاھد أربعۃ أمور : الحریۃ والعقل والبلوغ والإسلام ۔ اور البحر الرائق میں ہے : وفي المجتبى يستحب أن يكون النكاح ظاهرا ، وأن يكون قبله خطبة ، وأن يكون عقده في يوم الجمعة (البحرالرائق،ج 3،ص 144) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com