***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > زیارت قبور و ایصال ثواب

Share |
سرخی : f 458    عرس کی حقیقت احادیث شریفہ کی روشنی میں
مقام : پاکستان,
نام : عبداللہ
سوال:    

عرس شریف کے بارے میں قرآن اور حدیث ہمیں کیا کہتے ہیں؟


............................................................................
جواب:    

جامع ترمذی شریف میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا اقبرالمیت اتاہ ملکان اسودان ازرقان یقال لاحدہما المنکر و للاٰخر النکیر فیقولان ما کنت تقول فی ہذا الرجل ؟ فیقول ہو عبداللہ و رسولہ اشہد ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ۔ فیقولان قد کنا نعلم انک تقول ہذا، ثم یفسح لہ فی قبرہ سبعون ذراعا فی سبعین ثم ینورلہ فیہ ۔ثم یقال لہ نم فیقول ارجع الی اہلی فاخبرہم ، فیقولان نم کنومۃ العروس الذی لایوقظہ الااحب اہلہ الیہ حتی یبعثہ اللہ من مضجعہ ذلک ۔ وان کان منافقاقال سمعت الناس یقولون قولا فقلت مثلہ لاادری فیقولان قدکنانعلم انک تقول ذلک فیقال للارض التئمی علیہ فتلتئم علیہ فتختلف اضلاعہ فلایزال فیہامعذبا حتی یبعثہ اللہ من مضجعہ ذلک رواہ الترمذی۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب میت کو رکھ دیا جاتا ہے تو دو سیاہ نیلی آنکھوں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں‘ ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے‘ تو دونوں فرشتے کہتے ہیں‘ تو اس شخصیت کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا‘ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندہ اور اس کے رسول ہیں‘ فرشتے کہتے ہیں ہم جانتے تھے کہ تو یہی کہے گا‘ پھر اس کے لئے اس کی قبر (4900) گز کشادہ کی جاتی ہے‘ پھر اس کے لئے قبر میں روشنی کی جاتی ہے‘ پھر کہا جاتا ہے: سوجا‘ وہ کہتا ہے میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤں گا اور اُنہیں بلاؤں گا‘ فرشتے کہتے ہیں: اس دلہن کی طرح سوجا جس کو اس کے اہل میں اس کا محبوب ترین شخص ہی جگاتا ہے‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اُسے اُس کے ٹھکانہ سے اٹھائے گا اور اگر وہ منافق ہو تو کہتا ہے میں نے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا تو میں نے بھی اُسی طرح کہا میں نہیں جانتا‘ تو فرشتے کہیں گے: ہم جانتے تھے کہ تو یہی کہے گا‘ پھر زمین سے کہا جائے گا تو اس پر تنگ ہوجا تو زمین اس پر تنگ ہوجائیگی‘ یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے سے مل جائیں گی‘ اسے زمین میں اسی طرح عذاب دیا جاتا رہے گا‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اُسے اُس ٹھکانہ سے اٹھائے گا ۔ ﴿جامع ترمذی شریف‘ ابواب الجنائز‘ باب ماجاء فی عذاب القبر‘ حدیث نمبر: 1092﴾ دیگر روایتوں میں مزید تفصیل موجود ہے کہ نیک بندوں کی روح کو فرشتوں کی جھرمٹ میں آسمانوں پر لے جایا جاتا ہے‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے خلعت سرفراز کی جاتی ہے‘ جنتی لباس پہنایا جاتا ہے‘ خوشبو لگائی جاتی ہے‘ یہ تمام اہتمام وصال کے دن ہوتا ہے‘ وصال کا دن نیک بندوں کے لئے فرحت و شادمانی ‘ نعمت یزدانی کے حصول کا دن ہوتا ہے‘ اسی لئے وصال کے دن حدیث پاک میں مذکورہ لفظ عروس (دلہن) کی مناسبت کے باعث عرس کے نام سے اطعام طعام ‘ ایصال ثواب و زیارت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی حدیث شریف سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال کی ابتداء میں شہداء احد کی قبور پر بغرض زیارت تشریف فرما ہوتے تھے‘ رد المحتار‘ جلد 1‘ صفحہ 630‘ باب الجنائز میں ہے: و فیہ یستحب ان یزور شھدا جبل احد لما روی ابن ابی شیبۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یأتی قبور الشھداء باحد علی رأس کل حول فیقول ’’السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار‘‘ صورت مسؤلہ میں مشائخین وغیرہ کا سال میں ایک دفعہ صالحین و اولیاء کبار کے قبور پر بغرض زیارت جمع ہونا یہ حدیث زیارت شہداء احد سے ثابت ہے اور وفات کے دن کا نام عرس رکھنا یہ حدیث * نم کنومۃ العروس سے مستفاد ہے‘ کیونکہ اس روز محبوب حقیقی کے وصال اور اس کے بے غایت انعام و افضال نے ان کو جو مسرور کیا ہے اس کی مثال دنیا میں اہل دنیا کی شادی کے دن کے ساتھ ہی ہوسکتی ہے۔ اور ملک مغرب کے بعض مشائخین عظام کے اقوال سے ثابت ہے کہ بزرگوں کے عرس کے دن زائرین کو جو برکات و فیوض حاصل ہوتے ہیں وہ بہ نسبت دوسرے ایام کے بہت کچھ زائد ہوتے ہیں‘ جیساکہ ما ثبت بالسنۃ کے صفحہ 68 میں مولانا شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فان قلت ھل لھذا العرف الذی شاع فی دیارنا فی حفظ اعراس المشایخ فی ایام وفاتھم اصل فان کان عندک علم بذلک فاذکرہ؟ قلت قد سئل عن ذلک شیخنا الامام عبدالوھاب المتقی الملکی فأجاب بأن ذلک من طریق المشایخ و عاداتھم و لھم فی ذلک نیات ، قلت کیف تعین الیوم دون سائر الأیام فقال الضیافۃ مسنونۃ علی الاطلاق فاقطعموا النظر عن تعیین الیوم ولہ نظائر کمصافحۃ بعض المشایخ بعد الصلاۃ و کالاکتحال یوم عاشوراء فانہ سنۃ علی الاطلاق و بدعۃ من جھۃ الخصوصیۃ۔ ثم قال وقد و قد ذکر بعض المتاخرین من مشایخ المغرب ان الیوم الذی وصلوا فیہ الی جناب العزۃ و حظائر القدس یرجی فیہ من الخیر والکرامۃ والبرکۃ والنورانیۃ اکثر و اوفر من سائر الایام‘ ثم اطرق ملیا ثم رفع رأسہ و قال ولم یکن فی زمن السلف شیء من ذلک و انما ھو من مستحسنات المتأخرین۔ عرس کے دن صاحب عرس کی مزار پر حاضر ہوکر بغرض ایصال ثواب سورۂ فاتحہ و سورۂ اخلاص‘ اوائل سورۂ بقرۃ‘ سورۂ تبارک‘ آمن الرسول‘ سورۂ یس‘ آیت الکرسی وغیرہ پڑھنا‘ فقراء و مساکین کو خیرات کرنا یا کھانا کھلانا موجب برکت و ثواب ہے‘ ایصال ثواب کرنے والے کو چاہئے کہ روئے زمین کے تمام مسلمانوں کو خواہ زندہ ہوں یا مردہ اسی ثواب میں شریک کرے‘ خداوند عالم سب کو برابر ثواب پہنچاتا ہے‘ رد المحتار جلد 2‘ صفحہ 631‘ باب الجنائز میں ہے: لما ورد من دخل المقابر فقرأ سورۃ یس خفف اللہ عنھم یؤمئذ و کان لہ بعدد من فیھا حسنات (بحر) و فی شرح اللباب و یقرأ من القرآن ما تیسر لہ من الفاتحۃ و اوائل البقرۃ الی المفلحون و آیۃ الکرسی و آمن الرسول و سورۃ یس و تبارک الملک و سورۃ التکاثر والاخلاص اثنی عشرۃ مرۃ او احدی عشر او سبعا او ثلاثا ثم یقول: ’’اللھم اوصل ثواب ما قرأناہ الیٰ فلان او الیھم‘‘۔ (فتاویٰ نظامیہ‘ ص 103-104( واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com