***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > وراثت کا بیان

Share |
سرخی : f 461    قرض خواہ کے انتقال پر ورثہ کو قرض کی حوالگی
مقام : حیدرآباد india,
نام : خالد صدیقی‘
سوال:    

محترم مفتی صاحب! میرے ایک دوست نے مجھ سے ایک چھوٹا سا فقہی اور معتبر سوال کیا ہے‘ اس نوجوان نے کسی موقع پر اپنے کسی رشتے کے بھائی سے کچھ قرض لیاتھا‘ بڑی ہی درد اور تکلیف سے یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ نوجوان اور اس کی دلہن نے حالات اور جذبات کی رو میں بہہ کر خودکشی کرلی‘ ان کے اس اقدام کی بنیادی وجہ گھر والوں کی جانب سے ذہنی اذیت ہے جو انہیں برداشت کرنا پڑرہا تھا۔ بہت ہی درد بھرا واقعہ ہے‘ اب اس حادثہ کو گزرے ہوئے تقریباً تین ماہ گزر چکے ہیں اور میرا دوست اب ذہنی الجھن کا شکار ہے‘ یہ سونچتے ہوئے کہ وہ قرض لی ہوئی رقم کیسے واپس کرے؟ اور وہ رقم مرحومین کے گھر والوں کو بھی نہیں دینا چاہتا‘ یہ سوچتے ہوئے کہ اس رقم پر ان کا کوئی اخلاقی حق نہیں بنتا۔ میں نہیں جانتا کہ اس سے کچھ فرق پڑے گا کیوں کہ یہ رقم بہت چھوٹی ہے جب میرے دوست نے اپنے اس مرحوم بھائی سے رقم قرض لی تھی۔ میں شرعی ‘ فقہی اور اخلاقی تقاضہ یعنی رقم خیرات کردینے سے بھی واقف نہیں ہوں۔ براہ کرام بتلائیے۔


............................................................................
جواب:    

دین اسلام نے ضرورت مندوں کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے قرض کے لین دین کی رخصت واجازت دی ہے ، قرض دینے کی بڑی فضیلتیں اوراس پر اجر و ثواب کی بشارتیں سنائی گئیں ہیں ۔جو شخص قرض حاصل کیا ہے اُسے قرض واپس لوٹانے کی نیت رکھنی چاہئے ‘ اس سے دنیا و آخرت میں الطاف خداوندی حاصل ہوتے ہیں‘ اس سلسلہ میں حدیث شریف وارد ہے: * من اخذ دینا و ھو یریدان یودیہ اعانہ اللہ*۔ ترجمہ: جو شخص قرض حاصل کرے جبکہ اس کو واپس لوٹانے کا ارادہ رکھتا ہوتو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔ (کنز العمال باب فی ترغیب الاقراض‘ حدیث نمبر15432 ) آپ نے قرض واپس دینے کا ارادہ رکھاہے اس نیت پر بھی آپ کو اجر و ثواب ملے گا۔ قرض دار کی ذمہ داری ہے کہ مقررہ مدت پر اپنا قرض ادا کرے‘ چاہے رقم چھوٹی ہو یا بڑی‘ اگر قرض خواہ کا انتقال ہوجائے تو اس کے وارثوں کے حوالہ کردے‘ کیونکہ قرض لیا گیا مال قرض خواہ کی زندگی میں اسکاحق ہے اور انتقال کے بعدورثاء کا حق ہے ۔بنابریں قرض خواہ کے انتقال کے بعد قرض کی رقم ورثہ کے بجائے دوسروں کو دینا شرعاً ناجائز ہے۔ سوال میں ذکر کردہ زن وشوہر کو ان کے گھروالوں نے جو ذہنی و فکری تکلیف دی یا کسی قسم کی اذیت پہنچائی تھی بلاشبہ وہ ظلم اور نا جائزعمل تھا لیکن مصیبت سے دل برداشتہ ہوکر ان کا خودکشی کرنابھی گناہ کبیرہ ہے اور اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com