***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 476    موئے مبارک برکات وآداب
مقام : اورنگ آباد ،انڈیا,
نام : رحمت اللہ ،
سوال:     السلام علیکم !مفتی صاحب ،میرا سوال یہ ہیکہ کیا موئے مبارک کاادب و احترام کرنا ہرمسلمان پرضروری ہے؟ اوراس کے آداب وبرکات کیا ہیں،کیا اس وقت کی جانے والی دعامقبول ہوتی ہے؟ اس کا جواب عنایت فرمائیں توبہت مہربانی ہوگی ۔
............................................................................
جواب:     وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
آثارشریفہ وموئے مبارک کی زیارت ایک بندۂ مؤمن کے لئے دنیاوآخرت کی سعادت ورحمت کا ذریعہ ہے ،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ سے نسبت رکھنے والی ہرشئی کی تعظیم وتوقیراوراس کا ادب واحترام عین ایمان ہے ، ان میں سرمو فرق آجائے توایمان برباد ہوجاتاہے ، چنانچہ آثارشریفہ وموئے مبارک کی زیارت مقدسہ کے مسعود موقع پرکامل ادب واحترام ملحوظ رکھیں، ظاہری وباطنی طہارت وپاکیزگی کا مکمل اہتمام کریں ، قلب وضمیرکوہرقسم کے دنیوی افکاروخیالات سے پاک وصاف رکھیں ،باادب ، خمیدہ سر‘ کمال تواضع اورخشوع وخضوع کے ساتھ درودوسلام کا وِرد زبان پرہو اورقلب میں عظمت وجلالت جاگزیں ہو،اس یقین کے ساتھ کہ’’ جزء کا احترام بھی کُل کا احترام ہے ‘‘
آثارمبارکہ کی زیارت کا شرف حاصل کریں ،اس مبارک موقع پرکی جانے والی دعایقینادرجہ اجابت وقبولیت سے بہرہ ورہوگی۔  
حجۃ الوداع کے موقع پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناسرمبارک حلق کروانے کے بعد حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو موئے مبارک تقسیم کرنے کا حکم فرمایا: فاعطاہ ابا طلحۃ فقال اقسمہ بین الناس۔  (صحیح مسلم شریف ج1،کتاب الحج ، ص421،حدیث نمبر: 3215)
علاوہ ازیں وضو کے وقت جو موئے مبارک یاریش مبارک نکلتے، زمین پر گرنے سے پہلے صحابہ کرام انہیں ہاتھوں میں لے لیتے او را س سے برکت حاصل کرتے۔
حضرت عثمان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری اہلیہ نے مجھ کو پانی کا ایک پیالہ دیکر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا او رانکی یہ عادت تھی کہ جب کسی کو نظر لگتی یا کوئی مرض لاحق ہوتا تو پانی کا ایک بڑا برتن حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجتیں، آپ کے پا س حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک تھے جس کو وہ چاندی کی ایک نلی میں رکھی تھیں، آپ ان موئے مبارک کو برتن میں جنبش دیکرعطا  فرماتیں تو وہ اس کوپی لیتے۔
راوی فرماتے ہیں میں نے نلی میں دیکھا اس میں چند سرخ موئے مبارک تھے۔
زجاجۃ المصابیح ج 3 ص 441/442۔ مشکوۃ المصابیح ص391،بحوالہ صحیح بخاری شریف ج 2،کتاب اللباس ، باب ما يذكر فى الشيب،ص875 ،حدیث نمبر:5896۔
عن عثمان بن عبداللہ بن موہب قال ارسلنی اہلی الی ام سلمۃ بقدح من ماء وکان اذا اصاب الانسان عین او شیَ بعث الیہا مخضبۃ فاخرجت من شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وکانت تمسکہ فی جلجل من فضۃ فخضخضتہ لہ فشرب منہ قال فاطلعت فی الجلجل فراَیت شعرات حمراَ۔
ونیز حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کئی ایک جنگوں میں شرکت کی ،دشمن کی تعداد اسلامی لشکر سے کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجودآپ کو فتح ونصرت، کامیابی وکامرانی حاصل ہوئی ،خود حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :  حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ ادافرمایا او رحلق شریف کیلئے حکم فرمایا، لوگ اطراف کے موئے مبارک لینے لگے تو میں نے سبقت کرکے جبین اقدس کے اوپر کے موئے مبارک حاصل کئے اور ان موئے مبارک کو ٹوپی میں رکھ لیا ‘پھر میں نے یہ ٹوپی پہن کر جس جنگ میں بھی شرکت کی مجھے نصرت اور کامیابی ہی نصیب ہوئی ۔
﴿خصائص کبری ج1ص68 ۔فتح الباری باب مناقب خالد بن الولید رضی اللہ عنہ ج7 ص 471۔حجۃ اللہ علی العلمین ص489﴾ ان خالد بن الولید ۔ ۔ ۔ وقال اعتمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحلق رأسہ فابتدر الناس جوانب شعرہ فسبقتہم الی ناصیتہ فجعلتھا فی ھذہ القلنسوۃ فلم اشھد قتالاوہی معی الارزقت النصر۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com