***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > موزوں پر مسح کرنے کے مسائ

Share |
سرخی : f 491    موزوں پر مسح کرنے کا حکم
مقام : پاکستان,
نام : سید عزیر جاوید عطاری رضوی قادری
سوال:    

مفتی صاحب میں موزوں پر مسح کرنے سے متعلق مختصر سی تفصیل جاننا چاہتا ہوں ؟رہنمائی فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

وضو میں دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت ایک مرتبہ دھونا فرض ہے‘ اگر کوئی شخص وضو کرنے کے بعد موزے پہن لے تو اس کے لئے موزے نکال کر پیر دھونے کے بجائے صرف موزوں پر ایک بار مسح کرلینا کافی ہے‘ پیر دھونے کی ضرورت نہیں ، موزوں پر مسح کرنے کی مدت ’’ حدث واقع ہونے کے وقت سے‘‘ مقیم کے لئے ایک دن ‘ایک رات اور مسافر کے لئے تین دن ‘تین رات ہے ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج1ص31 میں ہے: وَهِيَ لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا .هَكَذَا فِي الْمُحِيط- لیکن یہ بات اچھی طرح ملحوظ رکھنی چاہیۓ کہ موزے سے مراد کیا ہے! فقہاۓ کرام نے احادیث شریفہ کی روشنی میں فرمایا ھیکہ 1)موزے ایسے ہوں جس میں پیر کے ٹخنے چھپ جائیں لیکن شرط یہ ھیکہ وہ بغیر باندھے پیر پر جمے رہیں- 2)خواہ وہ چمڑے کے ہوں یا کسی ایسی چیز کے جو دبیز و موٹی ہواور اس میں پانی سرایت نہ کرے 3)اور ایسے ہوں کہ آدمی اس کو پہن کر بلاتکلف عادت کے موافق چل پھر سکے- فتاوی عالمگیری،ج1،کتاب الطھارۃ،ص32میں ہے: (مِنْهَا ) أَنْ يَكُونَ الْخُفُّ مِمَّا يُمْكِنُ قَطْعُ السَّفَرِ بِهِ وَتَتَابُعُ الْمَشْيِ عَلَيْهِ وَيَسْتُرُ الْكَعْبَيْن- اگر موزہ اتنا پھٹا ہوا ہوکہ چلنے کی حالت میں پیر کا حصہ پیر کی تین چھوٹی انگلیوں کے بقدر کھل جاتاہو تو اس پر مسح جائز نہیں، ہر موزہ کا مسح ‘ہاتھ کی تین چھوٹی انگلیوں کے برابر موزے کی پشت پر ہونا چاہئے ، جن چیزوں سے وضوٹوٹتا ہے ان سے مسح بھی باطل ہوجاتا ہے اسی طرح جب مدت پوری ہوجائے یا موزہ پیر سے یا پیر کے اکثر حصہ سے اتر جائے تب بھی مسح باطل ہوتا ہے ۔ عام طور پر جو ‎پائتابے پہنے جاتے ہیں وہ اس طرح ہوتے ہیں کہ پانی اس میں سرایت کر جاتا ہے لہذا وہ موزوں کے حکم میں داخل نہیں اسی لئے اس کو پہننے کی صورت میں ان پر مسح کرنا درست نہیں بلکہ انہیں اتارکر پیروں کو دھونا ضروری ہے ورنہ وضو ہی پورا نہیں ہوگا- اگر حدث واقع ہونے کے وقت سے مقیم کی مدت ایک دن ‘ایک رات مکمل ہوجائے تو موزوں پر مسح کرنا ‘ شرعاً جائز نہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ موزے نکال کر پیر دھولے اور مسافر کی مدت تین دن ‘تین رات مکمل ہونے پر بھی یہی حکم رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com