***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > غسل ،تجہیز وتکفین اور تدف

Share |
سرخی : f 496    کیا شوہر ، بیوی کو غسل دے سکتا ہے ؟
مقام : انڈیا,
نام : ابو عثمان
سوال:     کیا شوہر  بیوی کو غسل دے سکتا ہے ؟
............................................................................
جواب:     کسی عورت کے لئے مرد کو غسل دینا یا کسی مرد کے لئے عورت کو غسل دینا جائز نہیں، اگرچہ دونوں کے درمیان قریبی رشتہ داری ہو، لہٰذا شوہر کے لئے بیوی کو غسل دینا ازروئے شریعت ناجائز ہے کیونکہ وہ انتقال کے ساتھ ہی نکاح سے نکل چکی، البتہ عورت کے لئے اپنے شوہر کو غسل دینا جائز ہے جبکہ ان دونوں کے درمیان جدائی واقع نہ ہوئی ہو، کیونکہ وہ ختم عدت تک اس کے نکاح میں سمجھی جاتی ہے۔
جیسا کہ رد المحتار میں ہے:
المرأۃ تغسل زوجہا لأن إباحۃ الغسل مستفادۃ بالنکاح فتبقی ما بقی النکاح والنکاح بعد الموت باق إلی أن تنقضی العدۃ بخلاف ما إذا ماتت فلا یغسلہا لانتہاء ملک النکاح لعدم المحل فصار أجنبیا وہذا إذا لم تثبت البینونۃ بینہما فی حال حیاۃ الزوج فإن ثبتت بأن طلقہا بائنا أو ثلاثا ثم مات لا تغسلہ لارتفاع الملک بالإبانۃ إلخ .(رد المحتار ج1‘ باب صلاۃ الجنازۃ‘ ص634)
اور فتاوی عالمگیری میں ہے: وأما ہو فلا یغسلہا عندنا ، کذا فی السراج الوہاج . (فتاوی عالمگیری الفصل الثانی فی الغسل ،ج۔1ص۔160) واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
04-03-2010
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com