***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > تقدیر پر ایمان لانے کا بی

Share |
سرخی : f 498    تعویذ پہننے کا حکم
مقام : سعودی عرب,
نام : محمد ایوب خان قادری
سوال:     السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
حضرت مولانا مفتی صاحب قبلہ !
مجھ کو آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ تعویذ کا پہننا مسلمان کے لئے کہاں تک صحیح ہے؟  حالانکہ میں خود تعویذ پہنتا ہوں آپ مہربانی فرماکر حدیث شریف کی روشنی میں وضاحت فرمائیں تو بہت بڑی مہربانی ہوگی-
فقط آپ کے جواب کا منتظر محمد ایوب خان قادری، سعودی عرب، ام الحمام

............................................................................
جواب:     وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! قرآنی آیات و احادیث کریمہ کے ذریعہ بطور دوا تعویذ استعمال کرنا شرعاً جائز ہے-
حدیث پاک میں جس تعویذ کے پہننے سے منع کیا گیا ہے وہ شرکیہ کلمات پر مشتمل ہوا کرتی تھی-
جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں حدیث پاک ہے:
عَنْ أَبِى خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ : هِىَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ-
  ترجمہ: سیدنا ابو خزامہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت بابرکت میں عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! ارشاد فرمائیے کہ یہ دعائیں جن کو ہم پڑھواتے ہیں اور وہ دوائیں جن کو ہم استعمال کرتے ہیں اور وہ حفاظت کی چیزیں جن کے ذریعہ ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں ، کیا یہ اللہ تعالی کی تقدیر کو دفع کرسکتی ہیں؟
آپ نے ارشاد فرمایا: یہ تمام چیزیں اللہ تعالی کی تقدیر سے ہیں- (جامع ترمذی، ابواب الطب، باب ما جاء فی الرقی والادویۃ، حدیث نمبر: 2206-
سنن ابن ماجہ ، کتاب الطب، باب ما انزل اللہ داءً الا انزل لہ شفاء، حدیث: 3563-
مستدرک علی الصحیحین، حدیث: 87-
مسند امام احمد، حدیث نمبر: 15870-
زجاجۃ المصابیح، باب الایمان بالقدر ، ج 1)
نیز صحیح بخاری شریف میں حدیث مبارک ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ  رضى الله عنهما  قَالَ كَانَ النَّبِىُّ  صلى الله عليه وسلم  يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَيَقُولُ : إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ، أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ-
ترجمہ: سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی کی پناہ میں دیتے، وہ الفاظ یہ تھے :
" أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ- "-
    ( حسن اور حسین ) تم دونوں کو میں اللہ تعالی کے کلمات تامہ (یعنی اللہ تعالی کے اسماء حسنی اور آسمانی کتابیں جو اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں اور جو ہر قسم کے نقصان سے پاک ہیں ان) کی حفاظت میں دیتا ہوں ہر (سرکش ، ضرر رساں جنات اور انسانوں اور) شیطان (کے شر) سے اور ہر موذی جانور ( کے شر سے بھی) اور ہر نظر بد (کے شر) سے بھی (جو طرح طرح کے نقصان پہنچاتی ہے)-
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ ارشاد فرماتے:  تمہارے والد گرامی (حضرت ابراہیم علیہ السلام ) بھی حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق (کی تمام آفات سے حفاظت) کے لئے یہی دعا پڑھا کرتے تھے-
(صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، حدیث نمبر: 3371-
زجاجۃ المصابیح، باب عیادۃ المریض)
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com