***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > زیارت قبور و ایصال ثواب

Share |
سرخی : f 499    بقیع شریف کو جنت البقیع کہنا کیسا ہے؟
مقام : سعودی عرب,
نام : محمد منور علی
سوال:    

کیا ہم بقیع کو جنت البقیع کہہ سکتے ہیں یا صرف بقیع کہیں؟


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محشی ترمذی ، انور شاہ کشمیری نے "العرف الشذی" میں روایت نقل کی ،جس میں " جنۃ البقیع " کے الفاظ موجود ہے،چنانچہ وہ جامع ترمذی شریف،باب ماجاء فی زیارۃ القبور،ج:1،ص :202 ، میں وراد حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے روایت نقل کرتے ہیں: أنه عليه السلام دخل جنة البقيع ودعا رافعاً يديه – ترجمہ : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جنت البقیع تشریف لے گئے اور آپ نے اپنے دونوں دستہائے مبارکہ اٹھا کر دعاء فرمائی – مذکورہ بالا روایت میں صراحت کے ساتھ جنت البقیع شریف کے لئے لفظ "جنۃ" ذکر کیا گيا ہے- واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com