***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > متفرقات

Share |
سرخی : f 518    اسلام امن وسلامتی والا مذہب ہے
مقام : حیدرآباد،انڈیا,
نام : محمد اسماعیل
سوال:    

سارے دہشت گردوں کو مسلمان کیوں کہا جارہا ہے ، کیا اسلام غیرمسلمین کو بغیر کسی سبب قتل کرنے کی تعلیم دیتاہے؟ اسلام انکے بارے میں کیا کہتاہے ؟ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

اسلام امن وسلامتی والا مذہب ہے،اسلام کا پیغام امن وسلامتی صرف اہل اسلام کے لئے نہیں ، بلکہ تمام اقوام عالم کے لئے ہے ، یہ وہ رحمت والا دین ہے جو تمام انسانی افراد کی جانوں کو یکساں قابل احترام گردانتا ہے، کرامت انسانی کے سبب کسی کی جان لینا تو کجا تکلیف دینا بھی روا نہیں رکھتا، جس وقت انسانی افراد کا خون بہانا باعث فخر سمجھاتا تھا اس دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مفتوحہ علاقہ کے باشندوں کی بکری ذبح کرنے سے بھی منع فرمایا - اس دین سے زیادہ امن کی ضمانت کہاں مل سکتی ہے جس دین میں دشمن کے کھجور کے باغ جلانا ممنوع ہو، اس قانون سے بہتر سلامتی کا ضامن کونساقانون ہوسکتا ہے جس میں دشمن کے پھل دار درخت کاٹنے کی اجازت نہیں ۔ اسلام نہ صرف انسانیت کے لئے امن کا ضامن ہے بلکہ حیوانات ونباتات اورعالم کے ‘ذرہ ذرہ کےلئے امن وسلامتی کی ضمانت دیتا ہے ،درختوں اور سبزہ زارون کو فتنہ وفساد کی مسموم فضاء سے محفوظ رکھتاہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک ارشاد ہے : غیرمسلم افراد کے حقوق کی حفاظت میرے ذمہ ہے۔ اگر کوئی مسلمان صاحب معاہدہ غیرمسلم کو قتل کردے جس کے لئے تحفظ فراہم کرنے کا مسلمانوں نے معاہدہ کیا ہے تواس مسلمان شخص کےلئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وعید بیان فرمائی ہے: صحیح بخاری شریف میں ہے : عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من قتل معاہدا لم یرح رائحۃ الجنۃ،وان ریحہا توجد من مسیرۃ اربعین عاما۔ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے معاہدہ والے غیر مسلم اقلیتی فردکو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھے گا،حالانکہ اسکی خوشبوچالیس سال کی مسافت سے سونگھی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری شریف،کتاب الجزیۃ،باب اثم من قتل معاہدا بغیر جرم،حدیث نمبر:۲۹۳۰) سنن ابوداؤد شریف میں حدیث پاک ہے (حدیث نمبر:۲۶۵۴)الامن ظلم معاہدا اوانتقصہ اوکلفہ فوق طاقتہ اواخذ منہ شےئا بغیر طیب نفس فاناحجیجہ یوم القیمۃ ۔ ترجمہ: خبردار ! جس شخص نے کسی صاحب معاہدہ غیر مسلم اقلیتی فرد پر ظلم کیا یا اس کا حق چھین لیا یا اسے اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری دی یا اسکی خوشدلی کے بغیر اس کی کوئی چیزے لی تو میںقیامت کے دن اس زیادتی کرنے والے کے خلاف مقدمہ پیش کروگا۔(کتاب الخراج والامارۃ والفیء ،حدیث نمبر:۲۶۵۴) جو مذہب اس قدر امن وسلامتی کی تعلیم دیتا ہے اور اس کے پیام کو عام کرنے کا حکم دیتا ہے اس کے ماننے والے کیسے دہشت گرد ہوسکتے ہیں ؟مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام در اصل یہ اسلام دشمن طاقتوں کی ایک سازش ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف رچائی جارہی ہے – واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com