***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 528    انٹرنیٹ اورفون کانفرنس کے ذریعہ نکاح کا حکم
مقام : عمان,
نام : محمدعظمت
سوال:     میں جاننا چاہتا ہوں کہ آج کل انٹرنٹ اورفون پرکانفرنس کے ذریعہ براہ راست نکاح کیا جارہا ہے،دونوں جانب دودوگواہ ہوں توکیا اس طریقہ سے نکاح درست ہوتاہے؟ اگرلڑکاکسی اور کووکیل مختاربنائے جو مقام عقد پر موجود ہو،وہ اور لڑکی مجلس عقدمیں دوگواہوں کے روبروایجاب وقبول کریں اورخود لڑکاانٹرنیٹ یا فون پر کانفرنس کے ذریعہ الفاظ سنے اور قبول کرے تو کیا حکم رہے گا؟شریعت کی روشنی میں جواب دیں تو مہربانی ہوگی۔
............................................................................
جواب:     شریعت مطہرہ میں نکاح منعقد ہونے کے لئے جو شرائط بیان کی گئی ہیںمنجملہ انکے یہ ہے کہ عاقدین ایک ہی مجلس میں ہوں،عاقدین میں سے ہرایک دوسرے کا کلام سنے، ایجاب وقبول کے الفاظ ایک ہی مجلس میں اداہوں اور ایجاب وقبول کے الفاظ دومسلمان عاقل وبالغ گواہ ایک ساتھ سنیں ،چنانچہ عاقد اور عاقدہ براہ راست نکاح کریںتواسکے احکام اور وکیل کے ذریعہ نکاح کریں تواس کے احکام میں قدرے فرق ہے۔
جب عاقد اور عاقدہ براہ راست نکاح کررہے ہوں تو دیگرشرائط کے ساتھ دونوں کا ایک ہی مجلس میں ہونابھی ضروری ہے ،اگربراہ راست نکاح کرنے کی صورت میں عاقد اور عاقدہ دومختلف مجلسوں میں ہوں تونکاح درست نہیں ہوتا۔
جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے :إذا کان العاقدان حاضرین وہو أن یکون الإیجاب والقبول فی مجلس واحد حتی لو اختلف المجلس لا ینعقد النکاح -
ترجمہ:(اتحاد مجلس سے مراد یہ ہے )کہ عاقدین موجود ہوں اور ایجاب وقبول ایک ہی مجلس میں ہو،اگر مجلس بدل جائے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا-(بدائع الصنائع،کتاب النکاح،فصل شرائط الرکن،ج 2،ص490)
لہذاعاقد وعاقدہ فون یا انٹرنٹ کے ذریعہ براہ راست نکاح کرناچاہتے ہوں تو چونکہ دونوں کی مجلس ایک نہیں ،اِس لئے ایسی صورت میں نکاح منعقد نہیں ہوگا۔اگرفون یاانٹرنٹ کے ذریعہ نکاح کے وقت عاقد کی مجلس میں دوگواہ ہوں اور عاقد ہ کی مجلس میں دوگواہ ہوں ،جیساکہ آپ نے سوال میں ذکرکیا تب بھی نکاح صحیح نہیں ہوتا کیونکہ جوگواہ مجلسِایجاب میں موجود رہ کرایجاب کے الفاظ سن رہے ہیں وہ گوکہ قبول کے الفاظ بھی بذریعہ فون یا انٹرنٹ سن رہے ہیں ،اسی طرح جوگواہ مجلس قبول میں شریک رہ کرقبول کے الفاظ سن رہے ہیں اگرچہ کہ ایجاب کے الفاظ بذریعہ فون یا انٹرنٹ سن چکے ہیں تب بھی چونکہ عاقدین کی مجلس الگ الگ ہے ،یہ نکاح شرعا درست قرار نہیں پاتا۔
اس سے واضح ہوتاہیکہ براہ راست نکاح اُسی صورت میں صحیح ہوتاہے جبکہ عاقد اورعاقدہ ایک ہی مجلس میں موجود رہ کر ایجاب وقبول کریں اور دوگواہ ایجاب وقبول کے الفاظ سماعت کریں ۔خط کے ذریعہ نکاح کی صورت میں عاقد خط کے ذریعہ ایجاب کرے کہ میں تم سے اسقدر مہر کے عوض نکاح کرتاہوں اوروہ تحریر مجلس عقدمیں سنائی جائے ،اسی مجلس میں  عاقدہ دوگواہوں کی موجود گی میں صیغہ ماضی سے قبولیت پر دلالت کرنے والے الفاظ کہے،جیسے میں نے قبول کیا وغیرہ تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔تحریرکے جواب میں محض تحریر سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔فون یا انٹرنٹ کے ذریعہ نکاح کی صحیح صورت یہ ہیکہ عاقد یا عاقدہ اپنے کسی معتمدعلیہ کو اپناوکیل ومختار بنادے( اوربہتر ہیکہ باضابطہ اس کے نام مختارنامہ ارسال کرے )اور وکیل مختاراپنی وکالت سے مجلس عقد میں دوگواہوں کے روبرو عاقدہ کے سامنے یااسکے وکیل مختارکے سامنے اپنے مؤکل کی طرف سے ایجاب کے الفاظ اداکرے،انہیں گواہوں کے سامنے اسی مجلس میںدوسرا فریق قبول کرے تو یہ نکاح شرعا منعقد ہوجائے گاکیونکہ فقہاء کرام نے صراحت فرمادی کہ نکاح جس طرح براہ راست کیا جاتاہے اسی طرح کسی کو وکیل بناکراس کے ذریعہ بھی کیا جاسکتاہے ۔جیساکہ فتاوی عالمگیری ج 1 ‘ کتاب النکاح ‘الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرہا ص294 میں ہے: یصح التوکیل بالنکاح ، وإن لم یحضرہ الشہود۔
آپ نے جو صورت بیان کی ہے کہ لڑکاکسی کو اپناوکیل مختاربنائے اوروہ وکیل اور لڑکی مجلس عقد میں دوگواہوں کے روبرو ایجاب وقبول کریں اور لڑکابھی فون یا انٹرنٹ کے ذریعہ ایجاب یا قبول کرے توایسی صورت میں انٹرنٹ کے ذریعہ لڑکے کاایجاب یا قبول ایک زائد امر ہوگا،نکاح تو وکالۃً اس کے بغیرہی درست قرارپائیکا۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاء الدین نقشبندی عفی عنہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹرwww.ziaislamic.com
حیدرآباد،دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com