***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > اذان کے مسائل

Share |
سرخی : f 538    حضرت بلال کا کعبہ کی چھت پر اذان دینا
مقام : حیدرآباد،انڈیا,
نام : ریحان
سوال:    

محترم مفتی صاحب! عرض خدمت یہ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کعبۃ اللہ شریف کے اوپر ٹھہر کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منہ کرکے اذان دئیے ہیں‘ کیا یہ حدیث ہے یا کسی کا قول ؟ اگر یہ حدیث ہو تو کس کتاب میں ہے‘ کس سے روایت ہے ؟ اور حدیث نقل فرمائیے اور جلد جواب دیجئے‘ جزاک اللہ خیر ۔ السلام علیکم


............................................................................
جواب:    

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو موذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا شرف حاصل ہے ‘ سفر و حضر میں آپ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے اور اوقات نماز میں اکثر آپ ہی اذاں دیا کرتے‘ چنانچہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا طواف فرمایا اور کعبہ کے اندر تشریف لے گئے‘ رات بھر وہاں تشریف رکھے جب صبح کا وقت ہوا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کعبہ کی چھت پر نماز فجر کی اذاں دی‘ آپ کا یہ عمل سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر تھا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے عن سعيد بن المسيب ، قال : لما قضى (1) رسول الله صلى الله عليه وسلم نسكه في القضاء ، دخل البيت ، فلم يزل فيه حتى أذن بلال الظهر فوق ظهر الكعبة ، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم أمره بذلك ، فقال عكرمة بن أبي جهل : لقد أكرم الله أبا الحكم حيث لم يسمع هذا العبد يقول ما يقول ، وقال صفوان بن أمية : الحمد لله الذي أذهب أبي قبل أن يرى هذا ، وقال خالد بن أسيد : الحمد لله الذي أمات أبي فلم يشهد هذا اليوم حين يقوم بلال بن أم بلال ينهق فوق الكعبة ، وأما سهيل بن عمرو ورجال معه لما سمعوا بذلك غطوا وجوههم . قلت : وقد رزق الله تعالى أكثرهم الإسلام ﴿دلائل النبوة للبیہقی ،باب کیف کان قدومہ بمکة وطوافہ بالبیت،حدیث نمبر:1672﴾کنز العمال: با ب غزوۃ الفتح حدیث نمبر؛ 30204﴾ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com