***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > شرکت کا بیان

Share |
سرخی : f 559    مشترکہ کھانے کاحکم
مقام : فلک نما،حیدرآباد-,
نام : محمد جمال الدین
سوال:    

میں ڈگری سال آخر کا طالب علم ہوں،میں اپنے دوستوں کے ساتھ کبھی کھانا کھانے کے لئے ہوٹل جاتا ہوں، جہاں کھانے کا علحدہ انتظام ہوتا ہے‘ ہم سارے دوست مل کر بل اداکرتے ہیں ،اس طرح کہ ہم سب پیسے تو برابر دیتے ہیں لیکن کھانا کوئی کم کھاتا ہے اور کوئی زیادہ ‘ ایسی صورت میں زیادہ کھانے والے کا کیا حکم ہے؟ بیان فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

شریعت مطہرہ میں کھانے پینے کے احکام وآداب بتلائے گئے ہیں، کھانے کے منجملہ آداب کے یہ ہے کہ کھاتے وقت دوسروں کا خیال رکھیں‘ تناول طعام میں ہرشخص کی مقدارِ غذا یکساں تو نہیں ہوتی لہذا اگر چند افراد باہم مل کر کھانا کھائیں اور مشترکہ طور پر برابر پیسے ادا کریں تو ایسی صورت میں کوئی کھانا زائد کھائے یا کوئی کم کھائے‘ اس میں کوئی حرج نہیں، جیساکہ فقہاء کرام کی اس تصریح سے واضح ہوتا ہے: فتاوی عالمگیری میں ہے: المسافرون إذا خلطوا أزوادہم أو أخرج کل واحد منہم درہما علی عدد الرفقۃ واشتروا بہ طعاما وأکلوا ، فإنہ یجوز ، وإن تفاوتوا فی الأکل ، کذا فی الوجیز للکردری. ترجمہ: مسافرین جب اپنے توشوں کو ملالیں یاہر ایک ساتھی ایک ایک درہم دے اور اس سے کھانا خریدکرلائیں تو یہ صورت جائز ہے اگر چہ کھانے کی مقدار میں تفاوت وفرق ہو۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الکراہیۃ ، الباب الحادی عشر فی الکراہۃ فی الأکل ، وما یتصل بہ) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com