***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > عاریت کا بیان

Share |
سرخی : f 561    امانت رکھی ہوئی رقم سے نفع حاصل کرنا کیسا ہے ؟
مقام : جئے پور‘ بذریعہ ای میل,
نام : رحیم خان
سوال:     ایک خاتون نے اپنی جائداد اپنے ایک بھتیجہ کے ذریعہ فروخت کی اور قیمت حاصل ہونے کے بعد بھتیجہ کے پاس ہی امانت رکھی ‘ اس خاتون کا بھتیجہ وہ رقم استعمال کررہا ہے اور انہیں ماہانہ کچھ مقررہ رقم روانہ کرتا ہے‘ خاتون نے کہا تم مجھے یہ رقم کیوں دے رہے ہو؟ جواب میں بھتیجہ کا کہنا ہے کہ آپ اسے جائداد کا فائدہ سمجھیں ‘ خاتون نے جواب دیا کہ میں اس کی مالک نہیں ہوں تو اس کا فائدہ کیسے لے سکتی ہوں؟ اس وقت بھتیجہ نے کہا کہ میں یہ رقم اپنی جانب سے دے رہاہوں‘ کیا اس خاتون کے لئے یہ رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟
............................................................................
جواب:     ذکر کردہ مسئلہ میں خاتون کو ان کا بھتیجہ جو رقم دے رہا ہے اسے فروخت شدہ جائداد کا فائدہ قرار دینا غلط ہے‘ جیسا کہ خاتون نے کہا ’’میں اس کی مالکہ نہیں ہوں تو اس کا فائدہ کیسے لے سکتی ہوں؟‘‘۔
امانت رکھی ہوئی چیز‘ خواہ رقم ہو یا سامان وغیرہ اسے مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرناشرعاً جائز نہیں‘ لہذا سوال کے مطابق بھتیجہ ‘ پھوپی کی جانب سے امانت رکھائی ہوئی رقم جو استعمال کررہا ہے اگر اس کا استعمال مالکہ کی اجازت کے بغیر ہوتو یہ ازروئے شرع ممنوع ہے‘ یہ عمل دراصل خیانت ہے ‘اس سے انہیں پرہیز کرنا ضروری ہے‘ اور اگر بہ اجازت استعمال کرتے ہوں تو بھتیجہ کی جانب سے پھوپی کو جو ماہانہ رقم مل رہی ہے اس کے جواز کی تین صوتریں ہوں گی:  
(1) اگر اس خاتون کا بھتیجہ انہیں یہ رقم واقعۃً اپنی جانب سے بطور ہدیہ دیتا ہے تو خاتون کے لئے رقم لینا درست ہے‘ اس کی نشانی وعلامت یہ ہے کہ ان کا بھتیجہ انہیں رقم امانت رکھنے سے پہلے بھی تحفہ دیا کرتا تھا یا اب اگر وہ رقم واپس لے لیں تب بھی وہ بدستور تحفہ دیا کرے۔  
(2) اگر ایسا نہ ہو تو بھتیجہ کا یہ کہنا کہ میں یہ رقم اپنی جانب سے دے رہاہوں‘ زبانی دعوی ہے‘ ایسی صورت میں اگر وہ اس رقم کو اپنے زرامانت میں مجرا کرکے لیتی رہیں تو کوئی مضائقہ نہیں پھر زرامانت ختم ہوجائے تو نہ لیا کریں۔  
(3) امانت رکھی ہوئی رقم کو وہ کاروبار میں لگارہے ہیں تو اس سے حاصل ہونے والے فائدہ کا فیصد اپنی پھوپی کی رضامندی سے طے کرلیں اور فائدہ کا طے شدہ فیصد انہیں دے دیاکریں‘ اس کے بجائے مشخص رقم دینا ازروئے شریعت جائز نہیں۔  
ان تین صورتوں میں سے کسی بھی صورت میں رقم لینا ان کے لئے جائز ہے‘ بصورت دیگر جائز نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com