***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز کی سنتیں اور مستحبات

Share |
سرخی : f 562    فجر کے بعد سنت فجر کی ادائیگی کاحکم
مقام : جہاں نما،انديا,
نام : اصغر علی
سوال:    

میں فجر کی نماز کیلئے جب مسجد میں آیاتوجماعت کھڑی ہوچکی تھی، فوراً جماعت میں شریک ہوگیا،فرض نماز امام صاحب کے ساتھ اداکرنے کے بعد میں نے فجر کی سنت اداکرلی،مسجد سے نکلتے وقت ایک صاحب نے مجھ سے کہاکہ شاید آپ نے نماز کے بعدسنت اداکی ہے ،فجر کی فرض نماز کے بعد سنت پڑھنے کا حکم نہیں ہے، کیا یہ بات درست ہے ؟اگرایساہی ہے تو جوشخص فجرکی نمازمیں اس وقت آئے جبکہ جماعت کھڑی ہوچکی ہو تو کیا اسے فجر کی سنت چھوڑدینا چاہئے ؟ میں نے تو سنا کہ فجر کی دورکعت بہت تاکید والی ہیں،اس مسئلہ کا حل بتلاکر میری رہنمائی فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی سنت اداکرنے کی بطورخاص تاکید فرمائی ہے ،مسندامام احمد (حدیث نمبر:8885)اورسنن ابوداود ج1ص179میں حدیث پاک ہے: عن ابی هريرۃ ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال لا تدعوا رکعتی الفجر وان طردتکم الخيل۔ ترجمہ :سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:فجر کی دورکعت سنت مت چھوڑو اگرچہ تمہیں گھوڑے روندڈالیں۔ فجر کی سنت کے بارے میں اس قدراہمیت وارد ہونے کے سبب اسے تمام سنت مؤکدہ نمازوں میں سب سے زیادہ تاکید والی سنت قرار دیا گیا حتی کہ اسے واجب کے قریب کہا گیا اسی لئے جماعت قائم ہونے سے پہلے تیاری کر کے فجر کی سنت پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ سنت بہ اطمنان وسکون اداکی جا سکے اور امام صاحب کے ساتھ تکبیر تحریمہ بھی فوت ہونے نہ پائے۔ اگر کوئی شخص مسجد میں ایسے وقت آئے جب کہ جماعت کھڑی ہوچکی ہو اور وہ شخص سنت فجر نہیں پڑھا ہو تو اسکی دو صورتیں ہیں(1)اگر سنت پڑھ کر شریک جماعت ہوسکتا ہے اگرچہ قعدہ میں ہی کیوں نہ ہو توحنفی مسلک کے مطابق حکم یہ ہے کہ وہ سنت اداکرلے اور شریک جماعت ہوجائے(2) اوراگر یہ اندیشہ ہو کہ سنت سے فارغ ہونے تک قعدہ بھی نہیں ملے گا بلکہ امام صاحب سلام پھردیں گے تب سنت نہ پڑھے بلکہ جماعت میں شریک ہوجائے،پھراس صورت میں فرض کی ادائیگی کے بعد حنفی مسلک کے مطابق سنت نہ پڑھے کیونکہ فجر کی فرض ادا کرنے کے بعدسنت و نفل نمازپڑھنا مکروہ ہے۔ جیساکہ درمختار برحاشیۂ ردالمحتار ج1ص 499میں ہے (و)السنن(اٰکدها سنةالفجر)اتفاقا۔ ردالمحتارکے اسی صفحہ پر ہے: ليس له ترک صلوة الجماعة لانها من الشعائر فهي اکد من سنة الفجر ولذا يترکها لو خاف فوت الجماعة۔ ترجمہ: فجر کی سنت تمام سنت نمازوں میں سب سے زیادہ تاکید والی ہے تاہم اس کے لئے جماعت کو نہیں چھوڑنا چاہئیے کیونکہ جماعت شعائر اسلام میں داخل ہے تو وہ سنت فجر سے زیادہ تاکید والی ہے اس لئے اگر سنت میں مشغول ہونے سے جماعت چھوٹنے کا اندیشہ ہو توفجرکی سنت چھوڑدے اور جماعت میں شریک ہوجائے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com