***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > وضو کے مسائل

Share |
سرخی : f 568    پٹی پر مسح کرنے والے امام کی اقتداء کرنا
مقام : بنگلور انڈیا,
نام : نبیل احمد
سوال:     میں ایک مسجد میں دیکھا کہ امام صاحب پیر پر زخم آنے کی وجہ سے پٹی باندھے  ہوئے ہیں ، اور  تکلیف کی وجہ سے پیر دھونے کے بجائے اس پر مسح کررہے ہیں کیا اس صورت میں مکمل وضوکرنے والوں کا امام صاحب کے پیچھے نماز اداکرنا درست ہے ؟  
............................................................................
جواب:     اگر زخم پر پانی لگنے سے ضرر کااندیشہ ہویا زخم کی پٹی کھولنے میں تکلیف ہو یا کھول کرباندھنے میں دقت ہوتوپٹی کھول کر پیر دھونا ضروری نہیں پٹی پر مسح کرلینا کا فی ہے ایسے وقت پیر دھونے کا حکم ساقط ہوجاتا ہے اور حکم شریعت یہی ہے کہ پٹی پر مسح کیا جائے ۔ لہذا پیر میں زخم ہونے کی وجہ او رتکلیف کے باعث امام صاحب وضو کے وقت پٹی پر مسح کرتے ہیں تو ان کا وضو کامل اور حکم شریعت کے مطابق ہے او ران کی اقتداء جائز ودرست ہے ۔
فتاوی عالمگیری ج ۱ ص ۸۴ میں ہے ویجوزاقتداء الفاسل بماسح الخف وبالماسح علی الجبیرۃ ۔ ونیز ج ۱ص۳۵میں پٹی پر مسح کرنے کے بیان میں ہے وانما یمسح اذالم یقدر علی غسل ماتحتہا ومسحہ بان تضر باصابۃ الماء اوحلہا ہکذا فی شرح اوقایۃ۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
04-05-2010
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com