***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 58    کیا نکاح کے لئے لڑکی کی رضامندی ضروری ہے؟
مقام : کاچی گوڑہ ،حیدرآباد,
نام : عبدالنبی
سوال:    

کیا ایک لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کی جاسکتی ہے ؟


............................................................................
جواب:    

اسلام نے نکاح کے سلسلہ میں صنف نازک کی رضامندی کا اعتبار کیا ہے ، لڑکی جب عاقل وبالغ ہوتو نکاح کے لئے اس کی رضامندی ضروری ہے ، ولی وسرپرست کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر لڑکی غیر کفو میں نکاح کرنا چاہے تو وہ اسے منع کرے،اس کے باوجود اگر وہ غیر کفو میں نکاح کر بیٹھے تو انہیں فسخ کروانے کا بھی اختیار ہے ۔ نیز اگر مہر مثل سے کم پر نکاح کرلے تو ولی مہر مثل کا مطالبہ کرسکتا ہے ، بصورت دیگر اسے تفریق کروانے کا اختیار ہے ۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری ج1،ص292،میں ہے :ثم اذا زوجت نفسھا من غیر کفء صح النکاح فی ظاہرالروایۃ عن ابی حنیفۃ رحمھ اللہ تعالی وھوقول ابی یوسف رحمھ اللہ تعالی اٰخرا وقول محمد رحمھ اللہ تعالی اٰخرا ایضا …ولکن للاولیاء حق الاعتراض وروی الحسن عن ابی حنیفۃ رحمھ اللہ تعالی ان النکاح لاینعقد وبھ اخذ کثیر من مشائخنا رحمھم اللہ تعالی، کذا فی المحیط ۔ والمختار فی زماننا للفتوی روایۃ الحسن وقال الشیخ الامام شمس الائمۃ السرخسی روایۃ الحسن اقرب الی الاحتیاط کذافی فتاوی قاضی خان فی فصل شرائط النکاح ۔ اور فتاوی عالمگیری ج1،ص293/294،میں ہے :ولوتزوجت المراۃ ونقصت من مھر مثلھا فللولی الاعتراض علیھا حتی یتم لھا مھر ھا اویفارقھا۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ  شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔ www.ziaislamic.com

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com