***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > غسل ،تجہیز وتکفین اور تدف

Share |
سرخی : f 586    ایک روایت کی تحقیق
مقام : حکیم پیٹ,
نام : محمد ابراہیم
سوال:    

میں نے سنا ہے کہ کسی صحابی نے اپنی مزار پر درخت کی شاخ لگانے کی وصیت کی‘ یہ بات کہاں تک درست ہے ؟ حقیقت سے آگاہ فرمائیں ۔ وہ صحابی کون ہیں ‘ ان کا نام کیا ہے اور یہ روایت حدیث کی کس کتاب میں ہے ؟ مکمل حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

آپ نے درست سنا ہے‘ وہ جلیل القدر صحابی رسول حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے وصیت فرمائی تھی کہ اُن کی قبر شریف پر دو شاخوں کو رکھا جائے ۔ صحیح بخاری شریف ج1 باب الجرید علی القبر ص181 میں حدیث پاک ہے: واوصی بریدۃ الاسلمی ان یجعل فی قبرہ جریدان۔ ترجمہ : حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے وصیت فرمائی کہ آپ کی مزار پر دو ٹہنیاں لگائی جائیں۔ اس وصیت کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الجنائز میں ذکر فرماکر اس سے قبر پر ٹہنی لگانے کے مسئلہ کو مستنبط فرمایا۔ چنانچہ بطور عنوان ’’باب الجرید علی القبر ‘‘ ’’قبر پر شاخ رکھنے کا بیان‘‘ تحریر فرمایا۔ جیسا کہ محدثین کرام کے پاس معروف ہے کہ امام بخاری کا اجتہاد و تفقہ صحیح بخاری شریف کے تراجم یعنی ابواب کے عناوین سے عیاں و آشکار ہے۔ آپ باب کا جو عنوان باندھتے ہیں وہ آپ کا مذہب ہوتا ہے‘ اس لئے عنوان وترجمہ الباب کے مسئلہ کو ثابت کرنے کے لئے استدلال و استنباط فرماتے ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ WWW.ZIAISLAMIC.COM حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com