***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > بیع سلم کا بیان

Share |
سرخی : f 587    فلیٹس کی  تعمیر سے قبل خرید و فروخت ؟
مقام : بنجارہ ہلز,INDIA,
نام : محمدعمران نوید۔
سوال:     شہر کے اطراف نئی آبادیاں قائم ہورہی ہیں ، بڑے بڑے اپارٹمنٹس تعمیر ہورہے ہیں ، عموماً ایسا ہورہا ہے کہ اپارٹمنٹس کی تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی فلیٹس فروخت کئے جارہے ہیں اور کافی رقم حاصل کی جارہی ہے ، کیا تعمیر سے پہلے اس طرح فلیٹس کی خرید و فروخت درست ہے ؟
............................................................................
جواب:     جن چیزوں کو آرڈر پر تیار کرنے کا عرف و رواج ہوتا ہے ، جیسے لباس ، جوتے ، روٹی وغیرہ ان کی خرید و فروخت جائز و درست ہے ۔ اگر چہ وہ چیز ہنوز وجود میں نہ آئی ہو ۔ شریعت مطہرہ کی اصطلاح میں اسے ’’استصناع‘‘ کہتے ہیں ۔ اس طرح کے معاملات کیلئے ضروری ہے کہ جس چیز کا آرڈر دیا جارہا ہے اس کی جنس ، قسم ، مقدار اور کوالٹی واضح کردی جائے ۔ جیسا کہ رد المحتارج 4 ص:632 میں ہے ، واما شرعا فهو طلب العمل منه في شئ خاص علي وجه مخصوص ۔ ۔ ۔  من شروطه بيان جنس المصنوع ونوعه وقدره وصفته وان يکون مما فيه تعامل ۔
ترجمہ: شریعت مطہرہ میں ’’استصناع‘‘ سے مراد کسی خاص چیز کو مخصوص طریقہ سے بنانے کا آرڈر دینا ہے ۔ ۔ ۔  اس کے شرائط میں یہ ہیکہ جس چیز کا آرڈر دیا جائے ، اس کی جنس ، قسم ، مقدار اور صفت بیان کی جائے اور عرف میں اس چیز کا آرڈر دیا جاتا ہو ۔
فلیٹس کی خرید و فروخت میں اگر تعمیر کا معیار اور اس کی کوالٹی ، اپارٹمنٹ کا نقشہ ، فلیٹس کا تعین ، فلورس کی نشاندہی اور سمت کی وضاحت کردی جائے اور باقی قابل وضاحت امور کی تفصیل بیان کی جائے تو تعمیر سے پہلے فلیٹس کی خرید و فروخت کرنا اور فلیٹس کی رقم حاصل کرنا درست ہے کیونکہ اس حد تک وضاحت کے بعد عموماً جھگڑے کا اندیشہ باقی نہیں رہتا ۔  
واللہ اعلم بالصواب–
سیدضیاءالدین عفی عنہ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ WWW.ZIAISLAMIC.COM
حیدرآباد دکن
27-05-2010
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com