***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > خرید و فروخت کا بیان > قرض کا بیان

Share |
سرخی : f 589    سونا قرض لینے کاحکم
مقام : کویت,
نام : نوید حسین
سوال:    

ایک صاحب نے اپنے دوست سے اسّی ہزار (80000) روپئے قرض مانگے، دوست نے کہا کہ میں تمہیں اسّی ہزار (80000) روپئے دینے کے بجائے اتنی ہی رقم کا سونا دیتا ہوں جب تم قرض واپس دوگے تو اتنے وزن کا سونا دیدو جتنے کا میں نے تمہیں دیا تھا۔ کیا قرض کے لین دین کا یہ طریقہ جائز ہے؟ ایسے وقت جب کہ سونے کے دام آئے دن بڑھتے جارہے ہیں‘ جب وہ صاحب رقم لوٹائیں گے تو سونے کے دام مزید بڑھ بھی سکتے ہیں اور کچھ گھٹ بھی سکتے ہیں‘ تو سونے کی مقدار کے حساب سے قرض واپس کریں گے یا اس کی قیمت کے حساب سے‘ اسلام میں کیا حکم ہے؟


............................................................................
جواب:    

شریعت مطہرہ میں قرض کے بطور سونے کا لین دین جائز ودرست ہے‘ اگر سونا قرض لیا جائے تو جس مقدار میں قرض لیا گیا اتنی ہی مقدار واپس کرنا‘ از روئے شریعت لازم ہے، اس میں سونے کی قیمت چڑھنے اترنے کا کوئی اعتبار نہیں‘ سونے کی مقدار کا اعتبار ہوگا۔ بنابریں اسّی ہزار (80000) روپئے مالیت رکھنے والا جس مقدار سونا قرض کے وقت لیا گیا قرض کی واپسی اتنی ہی مقدار میں سونا لوٹانے پر ہوگی۔ در مختار ج4‘ کتاب البیوع‘ فصل فی القرض میں ہے: (عقد مخصوص) أی بلفظ القرض ونحوہ ( یرد علی دفع مال ) بمنزلۃ الجنس (مثلی ) خرج القیمی ( لآخر لیرد مثلہ ) ۔ ۔ ۔ ( فیصح استقراض الدراہم والدنانیر وکذا ) کل ( ما یکال أو یوزن۔ ۔ ۔ ۔ واللہ اعلم بالصواب– سیدضیاءالدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔  حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com