***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان

Share |
سرخی : f 602    فکسڈ ڈپازٹ کے ذریعہ حاصل ہونے والی رقم سے زکوۃ ادا کرنا
مقام : انڈیا,
نام : سارہ فیروز میمن
سوال:    

کیا ہم فکس ڈپازٹ کے ذریعہ حاصل ہونے والی رقم سے زکوۃ ادا کرسکتے ہیں؟


............................................................................
جواب:    

اس مسئلہ میں اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ ہندوستان دارالامن ہے لہذا یہاں مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان کمی وزیادتی سے ہونے والا معاملہ سودی معاملہ ہے اور فکسڈڈپازٹ کے ذریعہ حاصل ہونے والی اضافی رقم حرام ہے،اہل علم کی دوسری جماعت نے کہا ہے کہ ہندوستان غیر اسلامی مملکت ہے،لہذا مذکورہ معاملہ سودی معاملہ نہیں ،اور اس سے حاصل ہونے والی اضافی رقم استعمال کرنے کی گنجائش ہے- جب اس مسئلہ میں اہل علم وارباب افتاء کا اختلاف ہے تو فکسڈڈپازٹ کے ذریعہ حاصل شدہ رقم میں ایک شبہ ہے اور زکوۃ کی ادائیگی کے لئے شبہ سے خالی رقم دی جانی چاہئیے- البتہ اسلامی مملکت میں چونکہ رقم کے تبادلہ میں کمی وزیادتی سود قرار پاتی ہے لہذا اسلامی ممالک میں فکس ڈپازٹ کروانا جائز نہیں اور اس سے جو نفع حاصل ہوتا ہے وہ سود ہے جو ازروئے شریعت قطعی حرام ہے ، اس کو لینے دینے والا گنہگار ہے ،اس رقم سے زکوۃ نہیں ادا کی جاسکتی- واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com