***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > قراءت کے مسائل

Share |
سرخی : f 626    قرأت سری سے کیا مراد ہے ؟
مقام : نیوزی لینڈ,
نام : محمد اظہر
سوال:    

میرے ایک عزیز سنت ونوافل میں سورۃ فاتحہ وغیرہ پڑھتے وقت ہونٹ نہیں ہلاتے ہیں، میں نے اس کے بارے میں ان سے دریافت کیاتو انہوں نے جواب دیا میں آہستہ دل میں پڑھتا ہوں۔ اس بارے میں وضاحت فرمائیں کہ ہونٹ ہلاکر پڑھنا چاہئے یابغیرہونٹ ہلائے پڑھ سکتے ہیں؟


............................................................................
جواب:    

نماز میں قرأت سری یعنی آہستہ قرأت کرنے کی حد یہ ہے کہ اپنی آواز آپ سن لے اور حروف صحیح ادا ہوں۔ حروف کی صحیح طورپرادائیگی اسی وقت متحقق ہوتی ہے جب کہ ہونٹوں کو حرکت دی جائے۔ جیساکہ درمختار ج 1ص 395میں ہے : ( وَ ) أَدْنَى ( الْمُخَافَتَةِ إسْمَاعُ نَفْسِهِ ) رد المحتار ج 1ص 395میں ہے :لِأَنَّ أَدْنَى الْحَدِّ الَّذِي تُوجَدُ فِيهِ الْقِرَاءَةُ عِنْدَهُ خُرُوجُ صَوْتٍ يَصِلُ إلَى أُذُنِهِ. فتاوی عالمگیری ج 1ص 69میں ہے : وَأَمَّا حَدُّ الْقِرَاءَةِ فَنَقُولُ تَصْحِيحُ الْحُرُوفِ أَمْرٌ لَا بُدَّ مِنْهُ فَإِنْ صَحَّحَ الْحُرُوفَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يُسْمِعْ نَفْسَهُ لَا يَجُوزُ وَبِهِ أَخَذَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ هَكَذَا فِي الْمُحِيطِ وَهُوَ الْمُخْتَارُ . احادیث شریفہ میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں آہستہ تلاوت فرماتے تو لحیۂ مبارک کو حرکت ہوتی۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف ج 1کتاب الاذان ص 105 میں ہے : عَنْ أَبِى مَعْمَرٍ قَالَ قُلْتُ لِخَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ أَكَانَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - يَقْرَأُ فِى الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ . قَالَ قُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ قِرَاءَتَهُ قَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ . ترجمہ حضرت ابومعمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے کہا‘کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہراورعصر میں قرأت فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں ‘ میں نے کہا آپ لوگ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کو کس چیز سے جانتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لحیۂ مبارک کی حرکت سےظاہر ہےکہ ہونٹ کی حرکت کے بغیرڈاڑھی کو حرکت نہیں ہوتی۔﴿صحیح بخاری شریف ج 1کتاب الاذان، باب القراءة فی العصر ،ص 105،حدیث نمبر:761﴾ حاشیۂ ہدایہ ج 1کتاب الصلوۃ ص 117میں ہے۔ فقد استدل البيهقی بهذاالحديث علی ان الاسرار بالقرأة لابدفيه من اسماع المرءنفسه فان ذلک لايکون الابتحريک اللسان بالشفتين بخلاف مالواطبق شفتيه وحرک لسانه فانه لاتضطرب لحيته کذافي فتح الباري۔ مذکورہ بالا حدیث شریف اورفقہاء کرام کی تصریحات سے یہ امرواضح ہوتاہے کہ سری نماز میں تلاوت کرتے وقت ہونٹوں کو حرکت دیتے ہوئے حروف کو صحیح طورپر اداکریں اوراتنی پست آوازسے پڑھیں کہ اپنے آپ کو سنائی دے ورنہ رکن قرأت ادانہ ہوگا اور نماز کو دہرانا واجب وضروری ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب – سید ضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com