***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 657    کیا سفر معراج جسم کے ساتھ ہوا؟
مقام : بھینسہ,
نام : محمد احمد
سوال:    

میں ایک دعوت میں شرکت کے لئے گیاتھا تومیرے چند ساتھی وہاں پرشب معراج شریف کے بارے میں گفتگو کررہے تھے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو معراج جسم کے ساتھ نہیں ہوئی بلکہ خواب کے ذریعہ ہوئی ۔( نعوذ باللہ) اس میں کوئی شان کی بات نہیں ہے ، اس لئے کہ خواب میں انسان بہت کچھ دیکھ لیتاہے ۔اس کا جواب ضرور عنایت فرمائیں ،اور حکم شریعت بیان کریں کہ اس کا انکارکرنے والے کو کیا کہا جائے گا۔


............................................................................
جواب:    

معراج جسمانی قرآن کریم سے ثابت ہے: ارشاد الٰہی ہے: سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بٰرَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ اٰیَاتِنَا إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ۔ ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندۂ خاص کو رات کے مختصر سے حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک سیر کرائی‘ جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تا کہ انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہی سننے والا ‘دیکھنے والا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔1) جسمانی معراج کی واضح دلیل آیت معراج میں وارد ’’بعبدہ‘‘ کا لفظ ہے ’’عبد‘‘ کے معنی سے متعلق مفسرین نے فرمایاہے کہ روح اور جسم کے مجموعہ کا نام ’’عبد‘‘ ہے، عبد (بندہ) نہ صرف روح کو کہا جاسکتا ہے اور نہ محض جسم کو۔ لہٰذا لفظ عبد سے معلوم ہوا کہ معراج روحِاقدس و جسمِاطہر کے ساتھ ہوئی۔ وتقریر الدلیل أن العبد اسم لمجموع الجسد والروح ، فوجب أن یکون الإسراء حاصلاً لمجموع الجسد والروح.(تفسیر رازی‘ سورۃ بنی اسرائیل۔ 1) صحیح احادیث میںبراق لائے جانے کاذکرملتاہے،(صحیح مسلم شریف حدیث نمبر 429۔ المستدرک علی الصحیحین للحاکم حدیث نمبر 8946 ۔تہذیب الآثار للطبری، حدیث نمبر 2771-مستخرج أبی عوانۃ ، حدیث نمبر 259مسند أبی یعلی الموصلی ، حدیث نمبر 3281مشکل الآثار للطحاوی، حدیث نمبر 4377جامع الأحادیث ، حدیث نمبر553 مسند أحمد ، حدیث نمبر12841مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ، حدیث نمبر 237) ظاہرہے کہ براق جیسے جانورپرروح اطہرنہیں بلکہ جسم منورکی سواری ہوتی ہے۔ سفرمعراج سے متعلق حضرت ملا جیون رحمتہ اللہ علیہ تفسیرات احمد یہ میں آیت معراج کے تحت فرماتے ہیں: والاصح انہ کان فی الیقظۃ وکان بجسدہ مع روحہ وعلیہ اہل السنۃ والجماعۃ فمن قال انہ بالروح فقط اوفی النوم فقط فمبتدع ضال مضل فاسق۔ترجمہ:صحیح ترین قول یہ ہیکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کومعراج شریف حالت بیداری میں جسم اطہر اور روح مبارک کے ساتھ ہوئی ‘یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔ لہٰذا جو شخص کہے کہ معراج صرف روح کے ساتھ ہوئی یا نیند کی حالت میں ہوئی وہ بدعتی، گمراہ، گمراہ گراوردائرہ اطاعت سے خارج ہے۔ (تفسیرات احمدیہ ۔ص330) حضرت ملا جیون رحمتہ اللہ علیہ نے مزیدلکھا ہے :ولذاقال اہل السنۃ باجمعہم ان المعراج الی المسجد الاقصی قطعی ثابت بالکتاب والی سماء الدنیا ثابت بالخبرالمشہور والی مافوقہ من السموات ثابت بالاحاد. فمنکرالاول کافرالبتۃ ومنکرالثانی مبتدع مضل ومنکرالثالث فاسق ۔ ترجمہ:اسی لئے اہل سنت وجماعت کا اس بات پراتفاق ہے کہ سفر معراج‘ مسجدحرام سے مسجداقصی تک قطعی طورپر قرآن کریم سے ثابت ہے اور آسمانی دنیاتک کاسفرحدیث مشہورسے ثابت ہے اورساتوں آسمان سے آگے خبرواحدسے ثابت ہے ۔چنانچہ جوشخص مسجداقصی تک معراج کا انکارکرے وہ بالیقین کافرہے‘ جومسجداقصی سے آسمانی دنیاتک سفر کا انکارکرے وہ بدعتی‘گمراہ گرہے اورآسمانوں سے آگے سفر کا انکارکرنے والا فاسق وفاجرہے ۔(تفسیرات احمد یہ ، ص328) واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com