***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > خلع کے مسائل

Share |
سرخی : f 658    شوہرکے الفاظ ’’میں تجھے خلع دے دیا‘‘کا حکم
مقام : حیدرآباد،انڈیا,
نام : نام غیرمذکور
سوال:     میں بیوی کے درمیان کچھ ایسی بات ہوئی ‘بیوی نے طلاق یا خلع کی مانگ نہیں کی ،شوہرنے اس سے کہا’’میں تجھے خلع دے دیا‘‘ کیا اس کی وجہ سے خلع ہوجائے گی اوربیوی کا حق مہرختم ہوجائے گا؟ برائے مہربانیاس کے شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں۔  
............................................................................
جواب:     شوہراپنی بیوی سے اگریہ کہے :’’میں تجھے خلع دے دیا‘‘ تو اس سلسلہ میں شوہرکی نیت کے اعتبارسے حکم مختلف ہے ، اگرشوہرنے طلاق کی نیت کے ساتھ یہ الفاظ کہے ہیں توطلاق بائن واقع ہوگی ‘خواہ عورت اُسے قبول کی ہویانہ کی ہو۔نیز عورت کے لئے شوہرکے ذمہ حق مہرباقی رہے گا‘کیونکہ شوہرکی جانب سے مذکورہ الفاظ طلاق کے لئے استعمال کئے جانے والے الفاظ کنایہ سے ہیں ‘جس سے نیت کرنیکی صورت میں طلاق بائن واقع ہوتی ہے ۔  
ہاں اگر شوہرنے طلاق کی نیت کے بغیریہ الفاظ کہے تو طلاق واقع نہ ہوگی، چنانچہ بیان کردہ صورت میں اگر شوہرنے اپنی بیوی سے طلاق کی نیت کے ساتھ کہا کہ ’’میں تجھے خلع دے دیا‘‘ تو طلاق بائن واقع ہوگی اور شوہرنے مہرادانہیں کیا تھا تو اس کے ذمہ مہرواجب ہوگا۔اگر اس نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی توطلاق واقع نہ ہوگی ۔
جیساکہ البحرالرائق ‘ کتاب الطلاق ‘باب الخلع میں ہے : قال لہا خالعتک فقالت قبلت لا یسقط شیء من المہر ویقع الطلاق البائن بقولہ إذا نوی ولا دخل لقبولہا حتی إذا نوی الزوج الطلاق ولم تقبل المرأۃ یقع البائن وإن قال لم أرد الطلاق لا یقع ویصدق قضاء ودیانۃ-
واللہ اعلم بالصواب
سید ضیاء الدین عفی عنہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com
حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com