***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > تیمم کے مسائل

Share |
سرخی : f 675    نماز جنازہ کی خاطر کئے گئے تیمم کا حکم
مقام : کریم نگر,
نام : عادل شریف
سوال:    

میرے ایک دوست نے کہا کہ ایک صحتمند شخص نماز جنازہ کے لئے تیمم کیا ہو تو اس سے دوسری نماز نہیں پڑھ سکتا۔ کیا یہ بات درست ہے؟ برائے کرم اس سوال کا جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

تیمم کی اجازت چونکہ محدود اور اس کے شرائط کے ساتھ خاص ہوتی ہے جیسے پانی نہ پائے جانے کی صورت یا بیماری کی وجہ وضو پر قدرت نہ ہونے کی صورتیں وغیرہ۔ اس لئے جس عذر کی بناء پر تیمم کی اجازت دی گئی اگر وہ عذر دور ہوجائے تو ایسی صورت میں تیمم نہیں کیا جاسکتا۔ چونکہ نماز جنازہ فوت ہوجانے کی صورت میں اس کا کوئی بدل نہیں‘ اس لئے تنگیٔ وقت کی وجہ اس حد تک تیمم کرنے کی اجازت دی گئی‘ نماز جنازہ کے موقع پر اگر وقت اس قدر تنگ ہو کہ وضو کرکے نماز جنازہ میں شرکت نہ کرسکیں تو ولی میت کے علاوہ دیگر افراد کے لئے اجازت ہے کہ تیمم کرکے نماز جنازہ میں شریک ہوں لیکن اس تیمم سے دوسری نمازوں کی ادائیگی یا قرآن کریم چھونا شرعاً جائز نہیں۔ رد المحتار‘ ج 1‘ کتاب الطھارۃ ‘ تیمم کے بیان میں ہے: (قولہ ولو صلوۃ جنازۃ) .... فان تیممہ لم یصح الا لما نواہ وھو صلوۃ الجنازۃ فقط بدلیل انہ لا یجوز لہ ان یصلی بہ ولا ان یمس المصحف ولا یقرأ القران جنبا۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com