***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > روزہ کا بیان > وہ صورتیں جن میں روزہ نہی

Share |
سرخی : f 694    روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے (Cupping) کا حکم
مقام : پاکستان,
نام : سید محمد عزیر جاوید عطاری
سوال:    

برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنا لگوایا اور حالت روزہ کے علاوہ حالت احرام میں پچھنا لگوایا‘ اس کا کیا مطلب ہے؟ روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے کاکیا حکم رہے گا؟


............................................................................
جواب:    

پچھنا (Cupping) جسم سے فاسد خون نکالنے کے عمل کو کہا جاتا ہے‘ صحیح بخاری شریف میں احادیث شریفہ وارد ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے روزہ کی حالت میں اور احرام کی حالت میں پچھنا لگوایا۔ احادیث شریفہ کی روشنی میں فقہاء کرام نے فرمایا ہے کہ احرام کی حالت میں پچھنا لگوانا ازروئے شریعت مباح ہے اور بحالت روزہ پچھنا لگوانا اس وقت بلا کراہت جائز ہے جبکہ اس کی وجہ سے کمزوری نہ ہوتی ہو‘ اگر کمزوری پیدا ہوتی ہو تو کراہت سے خالی نہیں‘ تاہم ہر حال میں غروب آفتاب تک مؤخر کرنا‘ مناسب ہے۔               ردالمحتار‘ کتاب الصوم‘ باب ما یفسد الصوم وما لا یفسد ہمیں ہے: قولہ (وکذا لا تکرہ حجامۃ) ای الحجامۃ التی لاتضعفہ عن الصوم وینبغی لہ ان یؤخرہا إلی وقت الغروب والفصد کالحجامۃ۔ ردالمحتار‘ کتاب الحج‘ باب الجنایاتمیں ہے: قولہ (محاجمہ) ای موضع الحجامۃ من العنق کما فی البحر قولہ (وإلا فصدقۃ) ای وإن لم یحتجم بعد الحلق فالواجب صدقۃ۔              موسوعہ فقہیہ کویتیہ میںہے : اَثَرُ الْفَصْدِ عَلَی الإِْحْرَامِ ذَکَرَ الْحَنَفِیَّۃُ الْفَصْدَ ضِمْنَ مُبَاحَاتِ الإِْحْرَامِ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ‘ فَصْد) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com