***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > سونے چاندی کی زکوٰۃ کے مس

Share |
سرخی : f 708    سونے کا نصاب اگر پورا نہ ہوتو کیا کریں؟
مقام : جوبلی ہلز,
نام : محمد نجیم احمد
سوال:    

ایک صاحب کے پاس سونا چاندی نہیں ہے،پچیس ہزار روپئے موجود ہیں،رقم ایک سال سے رکھی ہوئی ہے،کیا اس رقم کی زکوۃ نکالنا ضروری ہے؟انہیں ماہانہ تنخواہ ملتی ہے اور مہینہ بھر خرچ اسی سے چلتا ہے،وہ کسی جائیداد کے مالک نہیں اور وہ کسی کے قرضدار بھی نہیں ،انہیں بچیس ہزار روپئے کی زکوۃ نکالنا ضروری ہے؟


............................................................................
جواب:    

کسی شخص کے پاس 60 گرام 755 ملی گرام سونا یا 425 گرام 285 ملی گرام چاندی ہو یا اس کی بقدر قیمت کے برابر رقم موجود ہو،قرض سے محفوظ ہو اور اس پر سال گزر چکا ہو تو اس کی زکوۃ نکالنا ضروری ہے،پچیس ہزار روپئے کی رقم سونے کے نصاب کو نہیں پہنچتی لیکن چاندی کے نصاب کو ضرور پہنچتی ہے۔ سوال میں مذکور صاحب کے پاس ایک سال سے پچیس ہزار روپئے موجود ہیں اور ان کے ذمہ قرض نہیں ہے تو چونکہ چاندی کے نصاب کے اعتبار سے وہ نصاب کے مالک ہیں لہذا ان پر پچیس ہزار روپئے سے ڈھائی فیصد (2.5%)رقم بطور زکوۃ نکالنا واجب ہے-فتح القدیر ،کتاب الزکوۃ ،فصل فی العروض میں ہے:ویقوم المالک بالانفع مطلقا فیتعین ما یبلغ بہ نصابا دون مالا یبلغ- واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com