***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > طواف کے مسائل

Share |
سرخی : f 723    طواف کے دو رکعت ادانہ کئے جائیں تو کیا حکم ہے؟
مقام : جدہ ، سعودی عرب,
نام : محمد خالد محی الدین
سوال:     ایک صاحب نے رمضان میں عمرہ کی سعادت حاصل کی‘ انہوں نے عمرہ کے تمام اعمال اچھی طرح انجام دئے لیکن طواف کے دورکعت ادا نہیں کئے ،کیا اس کی وجہ سے دم واجب ہوگا؟ برائے مہربانی شرعی حکم بیان فرمائیں۔ اب تو وہ اپنے وطن واپس آچکے ہیں‘ ایسی صورت میں ان کے لئے کیا حکم رہے گا؟
............................................................................
جواب:     اگر کسی نے عمرہ کے طواف کے بعد دورکعت واجب الطواف ادانہیں کئے تو اس کے سبب سے ان پر دم واجب نہیں ہوتا، کیونکہ طواف کے بعد دورکعت واجب الطواف ایسے واجب ہیں جس کے ترک پر دم لازم نہیں آتا، واجب الطواف اداکرنے کے لئے کوئی جگہ یا وقت کی قید نہیں ، ممنوع اوقات کے علاوہ کسی وقت کسی مقام پر اداکئے جائیں واجب الطواف درست ہے۔
البتہ مقام ابراھیم کے پاس یا حرم میں کسی اور جگہ اداکرنا اور مکروہ وقت نہ ہوتو طواف کے بعد ہی پڑھنا افضل ہے‘ جب تک واجب الطواف ادا نہ کئے جائیں ساقط نہیں ہوں گے، ذمہ میں واجب رہیں گے۔ جن صاحب نے طواف کے دورکعت ادا کئے بغیر اپنے وطن واپس ہوچکے ہیں ان پر دم لازم نہیں‘ وہ کسی بھی مقام پر واجب الطواف کی نیت سے دورکعت ادا کرسکتے ہیں‘ تاہم تاخیر کرنے سے مستحب عمل چھوٹ جاتا ہے لہذا تاخیر کرنا‘ مکروہ تنزیہی ہے۔
جیساکہ ارشاد الساری ،باب انواع الاطوفۃ ، باب فی رکعتی الطواف میں ہے: (ولا تختص) ہذہ الصلوۃ (بزمان ولامکان) ای باعتبار الجواز والصحۃ والا فباعتبار الفضیلۃ تختص بوقوعہا عقیب الطواف ان لم یکن وقت کراہۃ وتختص بایقاعہا خلف المقام ونحوہ من ارض الحرم (ولاتفوت) ای الا بان یموت (فلوترکہا لم تجبر بدم) ۔ ۔ ۔  فانہما فی ذمتہ ما لم یصلہما۔ ۔ ۔  (ولو صلاہا خارج الحرم ولو بعد الرجوع الی وطنہ جاز ویکرہ) ای کراہۃ تنزیہ لترکہ الاستحباب۔
واللہ اعلم بالصواب
سید ضیاء الدین عفی عنہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com
حیدرآباد ، دکن ،انڈیا
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com