***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان

Share |
سرخی : f 724    صف میں تنہا شخص کیلئے شرعی حکم
مقام : سعودی عرب,
نام : ناطق احمد
سوال:     میرا پہلا سوال یہ ہے کہ نماز کے لئے امام کی نیت کیا ہونی چاہئے؟ میں سعودی عرب میں رہتاہوں ، یہاں پر اگر صف میں جگہ نہیں ہے اور ایک آدمی پیچھے ہے تو وہ آگے کی صف سے کسی اور کو پیچھے کھینچ لیتے ہیں، اس سے اسکی نماز میں خلل پڑتاہے ۔ کیا یہ صحیح ہے؟ برائے مہربانی ہماری اصلاح فرمائیں؟
............................................................................
جواب:     امام کے لئے امامت کی نیت کرنا‘ ضروری نہیں ، مطلق نماز کی نیت کافی ہے‘ البتہ حصول ثواب کے لئے امامت کی نیت کرنا ضروری ہے۔ صف بندی کے سلسلہ میں حکم شریعت یہ ہے کہ اگر صف مکمل ہوجائے اور نئی صف کے لئے صرف ایک شخص ہو تو چونکہ صف میں ایک شخص کا تنہا کھڑا رہنا مکروہ ہے لہذا ایسی صورت میں اُسے رکوع تک دوسرے شخص کا انتظار کرنا چاہئے ، اگر رکوع تک کوئی نہ آئے تو کسی دیندار یا صداقت پسند شخص کو یا مسئلہ جاننے والے شخص کو اشارہ کرنے کے لئے کسی قدر کھینچے تاکہ وہ خود اپنے عمل سے پیچھے ہوجائے، اگر ایسا کوئی شخص نظر نہ آئے تو تنہا صف میں کھڑا ہوجائے۔  
درمختار‘  کتاب الصلوۃ، باب شروط الصلوۃ میں ہے: (والإمام ینوی صلاتہ فقط ) و ( لا ) یشترط لصحۃ الاقتداء نیۃ ( إمامۃ المقتدی ) بل لنیل الثواب عند اقتداء أحد بہ قبلہ کما بحثہ فی الأشباہ۔ رد المحتار ، کتاب الصلوۃ، باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیھا میں ہے: وَالْأَصَحُّ مَا رَوَی ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّہُ یَنْتَظِرُ إلَی الرُّکُوعِ ، فَإِنْ جَاءَ رَجُلٌ وَإِلَّا جَذَبَ إلَیْہِ رَجُلًا ۔ ۔ ۔  قَالَ فِی الْخَزَائِنِ قُلْت وَیَنْبَغِی التَّفْوِیضُ إلَی رَأْیِ الْمُبْتَلَی ، فَإِنْ رَأَی مَنْ لَا یَتَأَذَّی لِدِینٍ أَوْ صَدَاقَۃٍ زَاحَمَہُ أَوْ عَالِمًا جَذَبَہُ وَإِلَّا انْفَرَدَ اہ۔.   
واللہ اعلم بالصواب
سید ضیاء الدین عفی عنہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com
حیدرآباد ، دکن ،انڈیا
18-09-2010
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com