***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حقوق کا بیان

Share |
سرخی : f 725    حق حاصل کرنے کے لئے مال دینا
مقام : india-andhra pradesh,
نام : کلیم اشرف
سوال:    

ہمارے مرحوم دادا کی کچھ ایکڑ زمین ہے جو اب تک ورثہ میں تقسیم نہیں ہوئی ۔ پانچ دس سال پہلے زمین کے کاغذات بنوانے کے لئے کوشش کی گئی تھی لیکن رشوت کے بغیر کارروائی مکمل ہونے کی توقع باقی نہ رہی تو ہم لوگوں نے اسے پس پشت ڈال دیا ‘چند مہینوں سے بعض ورثہ کا مسلسل تقاضہ ہورہا ہے کہ متروکہ زمین کی کارروائی مکمل کرکے حصے الگ الگ کرلئے جائیں ۔ قدیم کارروائی ہونے کی وجہ سے زمین کی قیمت کی تقریبا دس فیصد رقم رشوت میں جارہی ہے ۔ حضرت مفتی صاحب ! اس بارے میں آپ ہمیں شرعی حکم سے واقف فرمائیں کہ ہمیں کیا کرناچاہئے ؟ شریعت کا جو فیصلہ ہوگا وہ ہمیں منظور ہے ۔


............................................................................
جواب:    

تعلیمات اسلام میں حقوق کے سلسلہ میں یہ تاکید فرمائی گئی ہے کہ حقداروں کو ان کے حقوق مکمل طورپر ادا کردیئے جائیں، ادائیگی حقوق کو فرائض و واجبات میں شامل کردیا گیا ۔ ہر کوئی اپنے فرائض ادا کرنے لگے تو خود بخود دوسرے کو اس کا حق مل جاتا ہے۔ مطالبۂ حقوق کی نوبت ہی نہیں آتی تاہم کسی نے اپنا فرض ادا نہ کیاجس کے نتیجہ میں صاحب حق کواس کا حق نہیں مل سکا تو اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ نے حقدار کو اپنے حق کا مطالبہ کرنے کی اجازے دی ہے ۔ بلکہ حقدار کو اپنا حق حاصل کرنے کے لئے سعی و کوشش کرنی چاہئے ۔ کسی بھی محکمہ میں جو عہدیداران ہوتے ہیں وہ حکومت کی جانب سے اس عمل کے ذمہ دار و مسؤل بنائے گئے ہیں کہ اپنامتعلقہ کام کریں ۔ اس کے عوض سرکاری طور پر ان کے لئے تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔اپنامتعلقہ کام انجام دینے کے لئے مقررہ تنخواہ کے علاوہ مزید رقم کا مطالبہ کرناان کے لئے نہ شرعاًجائز ہے اور نہ قانوناً درست ہے ۔ اگر صاحب حق کو محض مطالبہ کرنے سے اس کا حق حاصل نہ ہو ۔ مال خرچ کئے بغیر عہدیدار کارروائی مکمل نہ کرے اور اس کا حق نہ دے اور حق حاصل کرنے کے لئے مال خرچ کرنا ناگزیر ہوجائے تو ایسی صورت میں حق حاصل کرنے کی غرض سے مال خرچ کرنا رشوت نہیں ہے البتہ مال لینے والا اپنی ڈیوٹی اور ذمہ داری ادا کرنے کے لئے بے جا مال کامطالبہ کررہا ہے ۔ اس لئے وہ رشوت لینے والا اور گنہگار قرارپاتا ہے۔ جیسا کہ ردالمحتار ج 5ص 300 میں ہے: دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ و مالہ ولاستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع ۔ ترجمہ : جان و مال سے ظلم کو روکنے کے لئے یا اپنا حق لینے کی غرض سے ظالم بادشاہ کو مال دینا ‘ دینے والے کے حق میں رشوت نہیں۔ رشوت سے اجتناب کرنے کے لئے آپ کا یہ عزم و ارادہ ، جذبہ و حوصلہ قابل تحسین ہے ۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق متروکہ زمین ورثہ کا حق ہے ۔ شریعت اسلامیہ نے ورثہ کوحق وراثت طلب کرنے کا اختیار دیاہے۔ اگر مال دیئے بغیر متروکہ زمین کی کارروائی مکمل نہیں ہوتی ، آپ کو اپنا حق وراثت حاصل نہیں ہوتا اور حق حاصل کرنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور صورت باقی نہ ہو تو آپ متعلقہ عہدیداروں کو ضرورتا مال دے سکتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com