***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > غسل ،تجہیز وتکفین اور تدف

Share |
سرخی : f 729    نومولود انتقال کرجائے اور غسل کے بغیر دفن کردیاجائے تو کیا حکم ہے؟
مقام : بنجارہ ہلز,
نام : سید ریحان
سوال:    

ایک نومولود کا پیدائش کے چند گھنٹوں بعد انتقال ہوگیا ‘ اُسے غسل دئیے بغیر اور نماز پڑھے بغیر دفن کردیا گیا‘ کیا اُس نومولود کو غسل اور نماز جنازہ پڑھانا ضروری تھا اگر ضروری تھا تو اب کیا کرنا چاہئے؟


............................................................................
جواب:    

بچہ جب زندہ پیدا ہو اور انتقال کرجائے تو اُسے غسل دینا اور اس کی نمازجنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے‘ اگر غسل و نماز کے بغیر دفن کردیا گیا ہو تو فوری طور پر قبر پر نماز جنازہ پڑھ لینی چاہئے۔ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق‘ کتاب الصلوۃ‘ باب الجنائزمیں ہے: وأما الطہارۃ فلأن المیت لہ حکم الإمام من وجہ ولہذا یشترط وضعہ أمام القوم حتی لا تجوز الصلاۃ علیہ لو وضعوہ خلفہم والإمام تشترط طہارتہ لجواز الصلاۃ ، ولہ حکم المؤتم أیضا بدلیل جواز الصلاۃ علی المرأۃ والصبی فیعطی لہ حکم الإمام ما دام الغسل ممکنا ، وإن لم یمکن بأن دفن قبل الغسل ، ولم یمکن إخراجہ إلا بالنبش یعطی لہ حکم المؤتم فتجوز الصلاۃ علی قبرہ للضرورۃ۔ واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com