***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > مسافر کی نماز کے مسائل

Share |
سرخی : f 753    مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں قصرکاحکم
مقام : سنگاپور,
نام : سالم محمد
سوال:    

میرا سوال نماز قصر کے بارے میں ہے کہ کیا مکہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ ایک حکم میں ہیں؟ میں اس سال حج کے لئے جا رہا ہوں اور پھر مدینہ شریف جاؤں گا ،تو کیا مجھے مکہ، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں نماز مکمل پڑھنی ہوگی یا قصر کرنا ہوگا؟ برائے مہربانی جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں تاکہ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ پہنچ کر صحیح طور پر نمازیں اداکرسکوں‘ اکثر لوگ یہ مسئلہ پوچھتے ہیں‘ تشفی بخش جواب عطافرما دیجئے۔


............................................................................
جواب:    

منی مزدلفہ اور عرفات کے درمیان رہائشی آبادی نہیں ہے لہذا مکہ مکرمہ‘ منی‘ مزدلفہ اورعرفات الگ الگ مقامات ہیں یہ سب ایک حکم میں نہیں‘ اگر کوئی منی اور مکہ مکرمہ کے قیام کو ملاکر پندرہ دن یا اس سے زائد سکونت کی نیت کرے گا تو ایسا شخص مسافر ہی کہلائے گااس لیے کہ مقیم ہونے کے لیے اقامت کے مقام کا ایک ہونا ضروری ہے‘ آپ مکہ مکرمہ‘ منیٰ‘ مزدلفہ‘ عرفات تمام مقامات کی مدتِ اقامت کو ایک ساتھ شمار نہ کریں بلکہ مکہ مکرمہ کے قیام کی مدت اگر پندرہ دن یا اس سے زائد ہورہی ہوتو آپ نمازیں مکمل پڑھیں ورنہ آپ ازروئے شریعت مسافر ہیں‘ اپنی نمازیں قصر کریں۔ المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی ‘ کتاب الصلوۃ‘ الفصل الثانی والعشرون میں ہے: وإن نوی المسافر الإقامۃ فی موطنین خمسۃ عشر یوماً نحو مکۃ ومنی أو الکوفۃ والحیرۃ لم یصر مقیماً ، لأن نیۃ الإقامۃ لہما تکون فی موضع واحد، فإن الإقامۃ ضد السفر وہو ضرب فی الأرض فلا یکون إقامۃ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ،  شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔ 14-10-2010

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com