***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > وضو کے مسائل

Share |
سرخی : f 756    دانتوں سے خون رِسنا!
مقام : ناندیڑ,
نام : سید مدثر اقبال
سوال:    

میرے چھوٹے بھائی کو کبھی کبھی دانتوں کے درمیان سے خون نکلتا ہے ، نماز کیلئے وضو کرنے کے بعد دانتوں کے درمیان خون نکل آئے تو کیا دوبارہ وضو کرنا ہوگا ؟


............................................................................
جواب:    

جسم سے خون نکل کر اپنے مقام سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ، منہ میں چونکہ لعاب ہوتا ہے ، اس وجہ سے خون بہنے کی مقدار میں نہ ہونے کے باوجود لعاب کے امتزاج سے بہہ پڑتا ہے ۔ منہ سے نکلنے والا خون کب ناقض وضو سمجھا جائے اور کب نہیں ؟ اس کیلئے فقہائے کرام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک قاعدہ بیان فرمایا ہے : منہ کے اندر خون نکل آئے تو دیکھا جائے کہ خون اور لعاب میں غلبہ کس کا ہے ، اگر خون لعاب پر غالب ہے یا دونوں برابر ہیں تو وضو ٹوٹ جائے گا اور لعاب خون پر غالب ہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا ۔ بدائع الصنائع ج1صفحہ421 میں ہے ؛ إن كانت الغلبة للبزاق لا يكون حدثا، لأنه ما خرج بقوة نفسه . وإن كانت الغلبة للدم يكون حدثا ، لأن الغالب إذا كان هو البزاق لم يكن خارجا بقوة نفسه فلم يكن سائلا ، وإن كان الغالب هو الدم كان خروجه بقوة نفسه فكان سائلا ، وإن كانا سواء فالقياس أن لا يكون حدثا.... وفي الاستحسان يكون حدثا . ترجمہ: لعاب کا غلبہ ہے تو وہ ناقض وضو نہیں ، اس لئے کہ خون اپنی قوت سے نہیں نکلا اور بہنے ولا بھی نہیں ۔ اگر خون کا غلبہ ہے تو وہ ناقض وضو ہے ۔ اس لئے کہ جب لعاب غالب تھا تو خون خود سے نہیں نکلا تھا اور بہنے والا نہیں تھا اور خون کا غلبہ ہو تو وہ اپنی قوت سے نکلا اور بہنے والا ہوا ، اگر خون اور لعاب دونوں برابر ہوں تو یہ ناقض وضو ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com