***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > پانی کے مسائل

Share |
سرخی : f 764    ماء مستعمل کا حکم
مقام : نظام آباد،انڈیا,
نام : حافظ غلام احمد
سوال:    

غسل کے وقت پانی کے چھینٹیں برتن میں گرتے ہیں ۔ کیا قطرات گرنے کے بعد اس پانی سے غسل کرنا درست ہے ؟


............................................................................
جواب:    

جنبی کے غسل کے پانی کے قطرات دراصل ماء مستعمل ہے اور ماء مستعمل (استعمال شدہ پانی ) کا حکم یہ ہے کہ وہ پاک ہے ‘ پاک کرنے والانہیں۔ اس لئے محض ماء مستعمل سے وضو و غسل درست نہ ہوگا ۔ اگر ماءمستعمل ماء مطلق (خالص پانی ) میں مل جائے تو اس سے وضو و غسل جائز ہے جبکہ ماء مستعمل ماء مطلق سے زائد نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ غسل کے پانی کے چھینٹیں جو قطرات کی شکل میں برتن میں گرتے ہیں وہ کم ہوں گے اور برتن کا پانی زیادہ ہوگا ۔اس لئے اس برتن کے پانی سے وضو اور غسل صحیح ہے کیوں کہ پانی کے جو قطرات برتن میں گرے ہیں وہ ناپاک نہیں ہیں۔ اگر غسل کرنے والے کے بدن پر نجاست حقیقی لگی ہے اور وہ اس کو زائل نہیں کیا اور غسل کے وقت پانی کے قطرات برتن میں گرجائیں تو برتن کا پانی ناپاک ہوگا اور اس پانی سے وضو اور غسل درست نہ ہوگا ۔ درمختار ج 1ص 134میں ہے : فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر بالکل والالا ۔ ترجمہ : کیوں کہ ماء مطلق اگر آدھے سے زیادہ ہے تو کل پانی سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ۔ ورنہ جائز نہیں ۔ اور درمختار کے اسی صفحہ پر ہے : الماء القلیل انما یخرج عن کونہ مطھرا باختلاط غیر المطھر بہ اذا کان غیرالمطھر غالبا۔ ۔ ۔ ولا شک انہ اقل من غیرالمستعمل فکیف یخرج بہ من ان یکون مطھرا۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com