***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > جنازہ کے مسائل

Share |
سرخی : f 768    تعزیت کا طریقہ اور وقت
مقام : جنگاؤں ، انڈیا,
نام : مجیب اقبال
سوال:    

تعزیت کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ انتقال کے بعد کب تک تعزیت دی جاسکتی ہے ؟ میت کے بعض افرادِ خاندان وقت انتقال موجود نہیں رہتے۔ اس صورت میں کیا حکم ہے ؟


............................................................................
جواب:    

تعزیت کے معنی پرسہ دینا اور تسلی دینا ہے ۔ میت کے پسماندگا ن ، رشتہ دار اور اقارب کو سانحۂ موت پر تسلی وپرسہ دینا اور انہیں صبروتحمل کی تلقین کرنا ازروئے شرع مندوب و مستحب عمل ہے ۔ مصیبت زدہ کی تعزیت کرنے اور اس کو تسلی دینے والے کےلئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عزت و کرامت کی خلعت سرفراز فرمائے گا ۔ سنن ابن ماجہ ص 115میں محمد بن عمروبن حزم رضی اللہ عنہ سے حدیث پاک مروی ہے ؛ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال مامن مؤمن یعزی اخاہ بمصیبۃ الاکساہ اللہ سبحانہ من حلل الکرامۃ یوم القیمۃ۔ ترجمہ : حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مؤمن بندہ اپنے بھائی کی کسی مصیبت میں تعزیت کرے تو اللہ تعالی بروز قیامت اس کو عزت و کرامت کا جوڑا پہنائے گا ۔ اور سنن ابن ماجہ شریف کے مذکورہ صفحہ پر ایک اور حدیث شریف ہے؛ عن عبداللہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من عزی مصابافلہ مثل اجرہ ۔ ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی تو اُسے بھی اتنا ہی﴿مصیبت زدہ کے برابر ﴾اجر ملے گا ۔ تعزیت کرنے کامستحب طریقہ یہ ہے کہ اہل میت سے یہ کہے : غَفَرَاﷲ تَعَاليٰ لِمَيِّتِکَ وَ تَجَاوَزَ عَنْهُ وَ تَغَمَّدَهُ بِرَحْمَتِهٖ وَرَزَقَکَ الصَّبْرَ عَلٰي مُصِيْبَتِهٖ وَاَجَرَکَ عَلٰي مَوْتهٖ ترجمہ : اللہ تعالیٰ مرحوم کو بخش دے ۔ اُن کے گناہوں کو معاف کردے اور اُن کو اپنی رحمت میں ڈھانک لے، اور آپ کو اس مصیبت پر صبر و تحمل عطا فرمائے اور اس سانحہ وفات پر اجر و ثواب نصیب فرمائے ۔ تعزیت کرنے کا وقت انتقال سے لے کر تین دن تک ہے ۔ تین دن کے بعد تعزیت کرنا مکروہ ہے ۔ البتہ میت کے افراد خاندان سے کوئی شخص جس کو تعزیت پیش کی جائے موجود نہ ہو یا تعزیت پیش کرنے والا حاضر نہ ہوسکے اور تین دن کے بعد آجائے تو اس وقت بھی تعزیت درست ہے ۔ فتاوی عالمگیری ج 1 ص 167 میں ہے ؛ التعزیۃ لصاحب المصیبۃ حسن ۔ ۔ ۔ ووقتھا من حین یموت الی ثلاثۃ ایام و یکرہ بعدھا الا ان یکون المعزی اور المعزی الیہ غائبا فلا باس بھا ۔ ۔ ۔ ویستحب ان یقال لصاحب التعریۃ غفراللہ تعالیٰ لمیتک و تجاوز عنہ و تغمدہ برحمتہ و رزقک الصبر علی مصیبتہ و اجرک علی موتہ ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com