***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان > قربانی کے جانور

Share |
سرخی : f 772    قربانی کے حمل کا حکم
مقام : بودھن ،انڈیا,
نام : اختر محی الدین
سوال:    

قربانی کے لئے ہم جو جانور خرید تے ہیں اُس میں بسااوقات حمل ہوتا ہے ، جانورذبح کرنے پر زندہ بچہ نکلتا ہے ،اس بچہ کو کیا کیا جائے ؟ تفصیل سے بتلائیں شکرگزار رہوں گا۔


............................................................................
جواب:    

قربانی کے جانورسے زندہ بچہ نکلے تو اُسے ذبح کیا جائے جس طرح جانور کوذبح کیا جاتاہے ، اگر اُسے ذبح نہ کیا جائے یہاں تک قربانی کے دن گزرجائیں تو زندہ صدقہ کردیاجائے ، ایام قربانی کے بعد بچہ چوری ہوجائے یا اُسے ذبح کرکے کھالیں تو ایسی صورت میں اُس کی قیمت صدقہ کرنا ازروئے شریعت واجب ہے ۔ فتاوی عالمگیری ، ج5، کتاب الاضحیۃ ، الباب السادس فی بیان ما یستحب فی الاضحیۃ والانتفاع بھا میں ہے : اضحیۃ خرج من بطنھاولد حی قال عامۃ العلماء : یفعل بالولد ما یفعل بالأم ، فإن لم یذبحہ حتی مضت أیام النحر یتصدق بہ حیا ، فإن ضاع أو ذبحہ وأکلہ یتصدق بقیمتہ ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔ 12-11-2010

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com